ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 243 of 255

ہمارا خدا — Page 243

اندر ایک خطرناک انقلاب پیدا کر کے ایک نئے نظام کی بنیاد قائم کر دی۔اس نئے نظام میں زاروں کا سلسلہ اڑا ، نوابوں کی نوابیاں ختم ہوئیں، امیروں کی امارت گئی اور آئندہ کے واسطے ملک کی دولت کی بظاہر مساویانہ تقسیم کے لئے ایک وسیع اشترا کی نظام جاری کر دیا گیا۔مگر جس طرح ہر رد عمل اور ہر بغاوت کے فعل میں جو کسی قائم شدہ نظام کے خلاف ہو دوسری انتہا کی طرف جھک جانے کا میلان ہوا کرتا ہے اسی طرح اشتراکیت والا رد عمل بھی ایک انتہا سے باغی ہو کر دوسری انتہا کو پہنچ گیا ہے اور ظاہر ہے کہ جس طرح ایک طرف کی انتہا نقصان دہ اور ضرر رساں تھی اسی طرح دوسری طرف کی انتہا بھی بھاری خطرات سے معمور ہے۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ وقتی جوش کے ماتحت یہ خطرات اس وقت کھلے طور پر نظر نہ آئیں اور مختصر طور پر یہ خطرات مندرجہ ذیل ہیں :۔1۔کمیونزم نے دولت اور دولت پیدا کرنے کے ذرائع کو کلیتہ حکومت کے ہاتھ میں دیگر انفرادی جدو جہد کے سب سے بڑے محرک کو تباہ کر دیا ہے۔ظاہر ہے کہ گو دُنیا میں کام کے محترک بے شمار ہیں مگر وہ محترک جو تمام محرکات سے وسیع تر ہے اور ہر طبقہ اور ہر درجہ کے لوگوں میں یکساں پایا جاتا ہے اور فطرتِ انسانی کا ایک حصہ ہے وہ اس شوق اور اس جذبہ سے تعلق رکھتا ہے کہ انسان اپنی محنت کا پھل خود براہ راست بھی کھائے اور یہ شوق اور یہ جذ بہ اشتراکیت کے نظام نے بالکل کچل ڈالا ہے۔بیشک ہر شریف انسان میں یہ جذبہ بھی ہوتا ہے اور ضرور ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کا ہاتھ بٹائے اور اپنے مال اور اپنے وقت کا کچھ حصہ ان کے لئے بھی خرچ کرے اور اسلام نے تو اس مؤخر الذکر جذبہ پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔مگر پھر بھی یہ خیال کہ اس کی محنت کا پھل زیادہ تر خود اسی کو حاصل ہوگا انسان کے لئے کام کا بہت بڑا فطری محترک ہے۔مگر اشتراکیت نے اس محترک کو تباہ کر کے انسانی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا رستہ کھول دیا ہے۔243