ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 161 of 255

ہمارا خدا — Page 161

مستقل طور پر اپنی شہادت پیش کرتا ہے۔اور یہ شہادت بھی کسی سنی سنائی بات پر مبنی نہیں بلکہ ذاتی اور گویا عینی مشاہدہ پر مبنی ہے اور یہ مشاہدہ بھی ایسا ہے کہ جو ان لوگوں کی ساری عمر پر پھیلا ہوا ہے۔پس ہم مجبور ہیں کہ جس طرح ہم دنیا کے دوسرے امور میں شہادت پر اپنے علم اور فیصلہ کی بنارکھتے ہیں اسی طرح ان کی شہادت کو بھی قبول کر کے اس بات کے قائل ہوں کہ یہ دنیا ایک واحد، خالق و مالک علیم و حکیم، قدیر و متصرف ہستی کے ماتحت ہے جس کے قبضہ قدرت سے دُنیا کی کوئی چیز با ہر نہیں۔قرآن شریف نے بھی اس شہادت کے اصول کو پیش کیا ہے بلکہ اسی اصل کے ماتحت انبیاء کا ایک نام قرآن شریف میں شاہد رکھا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے:۔إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلاً " شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُوْلاً یعنی ” اے لوگو! ہم نے تمہاری طرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا ہے تا کہ وہ تمہارے لئے شاہد یعنی گواہ کا کام دیں جیسا کہ ہم نے فرعون کی طرف موسیٰ رسول کو شاہد بنا کر بھیجا تھا۔“ الغرض شہادت رسل وصالحین کی دلیل خدا تعالیٰ کی ہستی کی ایسی زبردست دلیل ہے کہ کوئی سمجھ دار شخص اس کا انکار نہیں کر سکتا۔آب میں بفضلہ تعالیٰ ان عقلی دلائل کی بحث ختم کر چکا ہوں جو میں اس مضمون میں مستی باری تعالیٰ کے متعلق بیان کرنا چاہتا تھا اور ان دلائل کے متعلق جو جو شبہات عقلی طور پر وارد ہو سکتے ہیں انکا جواب بھی مختصر طور پر ساتھ ساتھ درج کر دیا گیا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے ابتدائے مضمون میں بیان کیا تھا میں نے اس مضمون میں پیچیدہ اور بار یک بحثوں سے حتی الوسع اجتناب کیا ہے اور صرف موٹی موٹی باتیں عام فہم طریق پر ↓ ل سورة المزمل - آیت 16 161