ہمارا خدا — Page 159
سے غلطی لگ جائے۔لیکن جہاں مشاہدہ کا سوال ہے وہاں ایک صحیح الدماغ اور صحیح الحواس شخص کے واسطے دھو کے کا امکان نہیں رہتا خصوصاً جبکہ یہ مشاہدہ ایسی چیز سے تعلق رکھتا ہو جس کے متعلق وہ شخص یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ اس کی خاص دلچپسی کی چیز ہے اور دن رات اس کے سامنے رہتی ہے اگر ایسی حالت میں بھی ایک صحیح الدماغ مشخص کے واسطے دھوکا لگنے کا امکان تسلیم کیا جاوے تو پھر خطر ناک تو ہم پرستی کا دروازہ کھل جاتا ہے اور دنیا سے امن اُٹھ جاتا ہے اور کوئی مشاہدہ بھی یقینی نہیں رہتا۔کیا کسی صحیح الدماغ شخص کو یہ دھوکا لگ سکتا ہے کہ وہ کسی غیر اور اجنبی شخص کے متعلق یہ سمجھنے لگ جائے کہ یہ شخص میرا فلاں دوست ہے جس کے ساتھ اتنے سالوں سے میرے دوستانہ تعلقات ہیں یا ایک ناواقف شخص کو اپنا پاپ یا بھائی سمجھنے لگ جائے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا دھوکا سوائے ایک مجنون یا مخبوط الحواس شخص کے اور کسی کو نہیں لگ سکتا۔اب اس اصل کے ماتحت ہم انبیاء وصلحاء کی شہادت پر نظر ڈالتے ہیں تو ان کی شہادت بھی دھوکا لگنے کے امکان سے بالا تسلیم کرنی پڑتی ہے کیونکہ وہ یہ نہیں کہتے کہ ہم نے عقلی دلائل سے خدا کی ہستی پر اطلاع پالی ہے اور بس۔بلکہ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم نے واقعی خدا کو پالیا ہے اور اس کے ساتھ ہمارا ذاتی تعلق قائم ہو گیا ہے اور وہ ہم سے کلام کرتا اور ہماری باتوں کو سنتا اور اُن کا جواب دیتا ہے اور ضرورت کے وقت اپنی زبر دست طاقتوں کے ساتھ ہماری نصرت فرماتا ہے۔اور پھر وہ اپنے اس مشاہدہ کو اپنی عمر کے کسی خاص حصہ کی طرف منسوب نہیں کرتے بلکہ اس بات کے مدعی ہیں کہ جب سے ہم نے خدا کو پایا ہے اس کے بعد سے ہماری ساری عمر اسی مشاہدہ میں گذری ہے۔گویا ان کا یہ مشاہدہ ایک غیر منقطع عرصہ کی صورت میں سالہا سال پر پھیلا ہوا ہے اور مرتے دم تک ان سے جُد انہیں ہوا اور اُن کے مشاہدہ کے عملی نتائج بھی دنیا کے سامنے ہیں۔ایسی صورت میں کوئی عقلمند آدمی ان کے متعلق یہ خیال نہیں کر سکتا کہ انہیں دھوکا لگا 159