ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 155 of 255

ہمارا خدا — Page 155

اگر انبیاء اور رسل کے ساتھ دنیا کی مختلف قوموں کے صلحاء اور اولیاء کو بھی شامل کر لیا جائے تو پھر یہ شہادت ایسی وزن دار ہو جاتی ہے کہ اس کا انکار قریباً قریباً جنون کے حکم میں آجاتا ہے۔ہر اُمت میں لاکھوں صلحاء اور اولیاء گذرے ہیں جو اپنے اپنے حلقہ میں اپنی بزرگی اور عقل و دانش کی وجہ سے لوگوں کے قلوب پر حکومت کرتے رہے ہیں اور اُن کی راست گفتاری اور امانت و دیانت لوگوں کے واسطے نمونہ رہی ہے۔یہ لوگ بھی انبیاء کی طرح اس بات کی شہادت دیتے رہے ہیں کہ دنیا کا ایک خُدا ہے جس کے قبضہ تصرف کے ماتحت یہ سارا کارخانہ عالم چل رہا ہے۔اور یہ شہادت بھی کوئی سنی سنائی شہادت نہیں بلکہ انبیاء کی طرح ان لوگوں کے ذاتی مشاہدہ پر مبنی ہے۔پس جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ یہ لاکھوں بلکہ کروڑوں انبیاء اور اولیاء اور صلحاء جو مختلف زمانوں اور مختلف قوموں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں نعوذ باللہ دروغ گو تھے یا مخبوط الحواس اور ناقص العقل تھے اس وقت تک ان لوگوں کی یہ عظیم الشان شہادت کہ ہم نے خدا کو دیکھا اور پہچانا ہے اور اس کے ساتھ ہمارا ذاتی تعلق قائم ہے، ایک ایسا گراں پتھر ہے جسے کوئی دہر یہ اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔کیا کوئی دہر یہ یہ جرات کر سکتا ہے کہ مرد میدان بن کر دنیا کے سامنے آئے اور اس بات کو ثابت کرے کہ حضرت ابراہیم دروغگو تھے یا مجنون تھے۔حضرت موسی دروغگو تھے یا مجنون تھے۔حضرت مسیح دروغگو تھے یا مجنون تھے۔حضرت کرشن دروغگو تھے یا مجنون تھے۔زرتشت دروغگو تھے یا مجنون تھے۔آنحضرت صلحم دروغگو تھے یا مجنون تھے۔حضرت مسیح موعود دروغگو تھے یا مجنون تھے۔اور اسی طرح باقی تمام انبیاء بھی دروغگو تھے یا مجنون تھے۔اور یہ جو ہر امت میں بے شمار صلحاء اور اولیاء گذرے ہیں یہ بھی سب درونگو تھے یا مجنون تھے؟ اور اگر کوئی دہر یہ یہ ثابت نہیں کرسکتا تو کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ تم لنڈن کو باوجود نہ دیکھنے کے مانو کیونکہ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ لنڈن ایک شہر ہے اور قطب شمالی اور قطب جنوبی کو با وجود نہ دیکھنے کے مانو کیونکہ 155