ہمارا خدا — Page 130
كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِي یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کر رکھا ہے کہ وہ اور اُس کے رسول ہمیشہ غالب رہیں گے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک رسول اکیلا اُٹھتا ہے اور مادی اسباب کے لحاظ سے بھی گویا بالکل بے سروسامان ہوتا ہے اور اُس کے مخالفین اپنی تعداد کے لحاظ سے اور اپنے سامانوں کے لحاظ سے بظاہر ایسے نظر آتے ہیں کہ بس ایک آن کی آن میں اُسے کچل کر رکھ دینگے لیکن پھر بھی اس کی فولادی میخیں آہستہ آہستہ لوگوں کے قلوب میں دهستی چلی جاتی ہیں اور محمدی کا سہرا آخر اسی کے سر پر بندھتا ہے اور اس کے مخالف ذلیل وخوار ہو کر اپنا سامنہ لے کر رہ جاتے ہیں۔یہ نظارہ دُنیا نے ایک دفعہ نہیں دیکھا، دو دفعہ نہیں دیکھا، دس ہیں دفعہ نہیں دیکھا، سو پچاس دفعہ نہیں دیکھا، بلکہ ہزاروں دفعہ دیکھا ہے۔اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ دنیا کی تاریخ میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ اس قسم کے مقابلے میں دہریہ کو (دہریہ سے مراد اس جگہ ہر وہ شخص ہے جو یا تو خدا کا بالکل ہی منکر ہے اور یا صرف رسمی طور پر خدا پر ایمان لاتا ہے اور حقیقتا ایمان باللہ پر قائم نہیں ) فتح نصیب ہوئی ہو۔میرے عزیز و ! خوب غور کرو۔ایک جنگ ہے جو دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف قوموں میں مختلف زمانوں میں مختلف حالات میں دس میں دفعہ نہیں ، چالیس پچاس دفعہ نہیں سینکڑوں دفعہ نہیں، ہزاروں دفعہ پیش آتی ہے اور ہر دفعہ ایک طرف خدا کا ایک بے یارو مددگار ، بے سروسامان بندہ ہوتا ہے جو خدا کا نام لے کر کھڑا ہوتا ہے اور دوسری طرف منکرین کا عظیم الشان لاؤلشکر ہر قسم کے سازوسامان سے آراستہ ڈیرے ڈالے ہوتا ہے۔مگر جب جنگ شروع ہوتی ہے تو آخر میدان اسی خدا کے بندے کے ہاتھ رہتا ہے اور دہریت کی فوج کو اسیر ہو کر اس کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہونا پڑتا ہے۔کیا یہ سب کچھ سورة المجادلة آيت 22 130