ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 94 of 255

ہمارا خدا — Page 94

مطابق عالم وجود میں آئے ہیں، لیکن اس بات کے متعلق قرآن شریف خاموش ہے کہ مٹی سے کونسی مٹی مراد ہے کیونکہ سارے کیمیاوی سالٹ مٹی ہی کا حصہ ہیں۔اور پھر اس بات کے متعلق بھی خاموش ہے کہ خدا نے انسان کو مٹی سے کس طرح بنایا ، کتنے عرصہ میں بنایا ، کتنے درجوں اور کس قسم کے درجوں میں سے گذار کر موجودہ حالت کو پہنچایا وغیر ذالک۔اسی طرح خدا نے اس کے اندر جان ڈالی تو کہاں سے ڈالی ،کس طرح ڈالی ، کتنے درجوں اور کس قسم کے درجوں میں ڈالی اور اس کا نشو ونما کیسے کیا؟ ان سوالات کی تفصیل بیان کرنا قرآن شریف نے اپنی غرض وغایت سے لاتعلق سمجھا اس لئے خاموشی اختیار کی۔پس کوئی سائنسدان قرآن شریف کے بیان پر اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں خلقِ انسان کی ایک ایسی اجمالی اور صحیح کیفیت بیان کی گئی ہے جو سائنس کی کسی ثابت شدہ حقیقت کے خلاف نہیں بلکہ خود سائنس کے لئے ایک اصولی شمع ہدایت کا کام دیتی ہے۔اور اگر کوئی شخص قرآن شریف کے اس بیان پر اپنی طرف سے حاشیے چڑھا کر پھر اُسے سائنس کے کسی مسئلہ کے مقابل پر لاتا ہے تو اُس کا ذمہ وار وہ خود ہے اسلام پر اس کی وجہ سے کوئی حرف گیری نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ حضرت حوا کو حضرت آدم کی پہلی سے پیدا کیا گیا۔مگر بعض لوگوں نے اس کے یہ معنے سمجھ لئے کہ آدم کے جسم کو پھاڑ کر اس کی پسلی کی ہڈی سے تو ا کا وجود پیدا کیا گیا۔اور اس طرح سائنس والوں کو اعتراض کرنے کا موقعہ مل گیا ہے حالانکہ جیسا کہ الہامی کتب کا عام طریق ہے یہ الفاظ استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں اور اس حدیث کے معنے یہ ہیں کہ عورت مرد کے پہلو بہ پہلو ر ہنے کے لئے پیدا کی گئی ہے اور وہ مرد کی زندگی کا لازمی حصہ اور اس کی رفیق حیات ہے۔لیکن مرد کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ جس طرح پسلی کی ہڈی ٹیڑھی ہوتی ہے عورت میں بعض مصالح کے ماتحت بعض فطری کمزوریاں رکھی گئی ہیں اور مرد کو اس کے ساتھ معاملہ کرنے 94