ہمارا خدا — Page 74
سادہ تھی اور پھر مادہ کے اندرونی خواص کے ماتحت وہ زیادہ اعلیٰ اور مکمل صورت اختیار کرتی گئی تو کم از کم اس سے یہ دلیل تو باطل ہوگئی جو اوپر دی گئی ہے کہ چونکہ موجودہ کائنات جو بیشمار مختلف چیزوں کا مجموعہ ہے ایک نہایت لطیف اور حکیمانہ قانون کے ماتحت کام کر رہی ہے۔اس لئے معلوم ہوا کہ وہ کسی بیرونی صانع اور علیم ومتصرف ہستی کے ماتحت ہے تو یہ بھی ایک جہالت کی بات ہوگی کیونکہ ان ابتدائی ادبی حالت کی چیزوں کے اندر ان خواص کا پایا جانا کہ وہ ترقی کر کر کے ایک عجیب و غریب کائنات کی صورت اختیار کر لیں اور اس ترقی کے ساتھ ساتھ ہی ایک نہایت ہی پر حکمت قانون بھی ان کے متعلق پیدا ہوتا چلا جائے خود سب عجوبوں سے بڑھ کر عجوبہ ہے۔بلکہ اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو اس مادی دنیا کی وہ ابتدائی حالت جو بیان کی جاتی ہے ( قطع نظر اس کے کہ وہ درست ہے یا نہیں) موجودہ کا ئنات سے بھی زیادہ عجیب و غریب اور انسانی عقل کو دنگ کرنے والی ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ وہ ابتدائی حالت موجودہ دُنیا کے لئے بطور تخم کے تھی اور ہر عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ تم درخت کی نسبت زیادہ عجیب و غریب اور زیادہ پر حکمت چیز ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر باوجود اس کے کہ وہ حجم میں نہایت چھوٹا اور صورت میں نہایت سادہ ہوتا ہے وہ تمام طاقتیں اور تمام خواص اور تمام کمالات بالقوة طور پر مخفی ہوتے ہیں جو بعد میں درخت کے اندر بالفعل رونما ہوتے ہیں۔پس اس دُنیا کا اپنی ابتدائی حالت میں بہت ادنی اور سادہ ہونا اس کا ئنات کو اور بھی زیادہ پُر حکمت اور عجیب و غریب چیز ثابت کرتا ہے اور خالق فطرت کی ہستی پر ایک مزید دلیل پیدا ہوتی ہے کہ کس طرح اس نے مادہ کی اس ابتدائی ادنیٰ حالت میں یہ مخفی طاقتیں ودیعت کر دیں کہ وہ آہستہ آہستہ ایک نہایت عظیم الشان اور پر رعب و پر حکمت عالم کی صورت اختیار کر گیا اور پھر اس کے ساتھ ساتھ ہی کس طرح اس کے اندر سے وہ کمل اور حکیمانہ قانون بھی پیدا ہوتا گیا جس کے ماتحت آج دُنیا کی بے شمار عجیب و غریب چیز میں اپنے 74