ہمارا خدا — Page 73
مسئلہ حیات اور فلسفہ بقاء عالم کی اصل حقیقت دن بدن منکشف ہوتی جاتی ہے۔گویا جن باتوں کو انسان پہلے زمانوں میں اپنی عقل و فہم سے بالا سمجھ کر کسی بالا ہستی کی طرف منسوب کر دیتا تھا اب ہم انہی باتوں کو نئے علوم کی روشنی میں کسی معتین قانون نیچر کا نتیجہ ثابت کر سکتے ہیں۔لہذا اس کا رخانہ عالم کوکسی خدا و غیرہ کی طرف منسوب کرنا جسے نہ کسی نے دیکھا اور نہ محسوس کیا ایک جہالت کا خیال ہے۔یہ وہ اعتراض ہے جو بعض مغرب کے محققین کی طرف سے ہستی باری تعالیٰ کے خلاف پیش کیا جاتا ہے، لیکن اگر نظر غور سے دیکھا جائے تو یہ اعتراض ایک بالکل بودا اعتراض ہے۔مسئلہ ارتقاء جس کی تفصیلات میں ہمیں اس جگہ جانے کی ضرورت نہیں اور قطع نظر اس کے کہ وہ صحیح ہے یا غلط ہے یا کس حد تک صحیح ہے اور کس حد تک غلط ہے ذات باری تعالیٰ کے خلاف ہرگز بطور دلیل کے پیش نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ مسئلہ کا ئنات کے حقیقی آغاز کے متعلق کوئی روشنی نہیں ڈالتا بلکہ اس کا تعلق صرف اس بات سے ہے کہ دنیا کی موجودہ چیزیں ہمیشہ سے اسی طرح نہیں بلکہ ایک ادنیٰ حالت سے ترقی کر کے اپنی موجودہ حالت کو پہنچی ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ وہ ابتدائی ادنیٰ حالت کی چیزیں کہاں سے آئیں؟ اس کے متعلق حامیان مسئلہ ارتقاء علمی طور پر کوئی یقینی روشنی نہیں ڈالتے اور ظاہر ہے کہ جب تک اس دُنیا کی ابتدائی پیدائش کے متعلق کوئی روشنی نہ ڈالی جائے محض مسئلہ ارتقاء کو خدا کے انکار کے ثبوت میں پیش کرنا قطعاً کوئی اثر نہیں رکھتا۔کیا صرف اس بات کے ثابت ہو جانے سے کہ انسان یا اس دُنیا کی دوسری چیزیں ابتدائی زمانہ میں کسی ادنیٰ قسم کی حالت میں تھیں اور پھر آہستہ آہستہ ترقی کرتی کرتی موجودہ حالت کو پہنچیں ، یہ استدلال جائز ہو سکتا ہے کہ اس دُنیا کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہے؟ ہرگز نہیں۔اور اگر یہ کہا جائے کہ جب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ دنیا اپنی ابتدائی صورت میں بہت 73