ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 231 of 255

ہمارا خدا — Page 231

ترقی کے لئے ہے اور کوئی عقلمند اس پر اعتراض نہیں کر سکتا اور یقیناً اس میں اور بھی بہت سے فوائد مخفی ہو نگے جن کو ابھی تک ہم معلوم نہیں کر سکے۔اور اگر کسی کو یہ شبہ گذرے کہ اگر یہ ضرر رساں جانور وغیرہ واقعی مفید ہیں تو ان کو نتباہ و برباد کیوں کیا جاتا ہے اور کیوں بعض صورتوں میں خود مذہب انسان کو یہ حکم دیتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو ہلاک کرتے رہنا چاہیئے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قانون نیچر کا یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ وہ دُنیا میں ہر چیز کے متعلق ایک توازن قائم رکھنا چاہتا ہے اور افراط اور تفریط کا طریق اس کے مسلک کے خلاف ہے۔پس چونکہ جو چیزیں اپنے اندر نمایاں طور پر ضرررساں پہلو بھی رکھتی ہیں اُن کا دُنیا میں حد اعتدال سے بڑھ جانا بمقابلہ اُن کے فائدہ کے نقصان کا زیادہ موجب ہوسکتا ہے اور ان کے فائدہ کا پہلو صرف اسی صورت میں غالب رہ سکتا ہے کہ اُن کی تعداد نیا میں زیادہ نہ بڑھنے پائے۔اس لئے خدا تعالے نے کمال حکمت سے ایک طرف تو ان چیزوں کو دنیا میں پیدا کر دیا اور دوسری طرف انسان کی طبیعت میں یہ بات ڈال دی اور بعض صورتوں میں صراحۃ حکم بھی دے دیا کہ ان چیزوں کو دنیا میں زیادہ نہ پھیلنے دو۔اور اس طرح نیچر کا فطری توازن قائم کرلیا گیا۔خلاصہ کلام یہ کہ دُنیا کی بعض چیزوں کا اپنے اندر ضرر رساں پہلو رکھنا ہرگز موجب اعتراض نہیں ہو سکتا۔اور حق یہی ہے کہ دنیا کی ہر چیز ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت پیدا کی گئی ہے اور بعض اشیاء کی ضرر رسانی بھی بالواسطہ طور پر انسان ہی کے فائدہ کے لئے ہے۔پس دہریوں کا یہ اعتراض بالکل فضول اور لغو ہے جس سے معترضین کی جہالت کے سوا اور کوئی بات ثابت نہیں ہوسکتی۔231