ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 193 of 255

ہمارا خدا — Page 193

میرے خدا نے اسے یونہی عبث نہیں پیدا کیا۔اور اس یقین کے نتیجہ میں وہ لازماً اپنی ہر نا کامی کو اپنی کوشش کی کمی یا طریق تحقیق کی غلطی کی طرف منسوب کرے گا اور ہمت نہیں ہارے گا۔الغرض یہ ایک بین حقیقت ہے کہ خدا کا عقیدہ دنیا میں حقائق الاشیاء کی تحقیق میں ایک نہایت مضبوط سہارے کا کام دیتا ہے اور اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ حقائق الاشیاء یعنی سائنس کے مختلف شعبوں کی تحقیق میں خدا کو ماننے والے اور نہ ماننے والے سب ایک ہی طرح دلچسپی لیتے ہیں اور خدا کا عقیدہ اس معاملہ میں ہرگز کوئی امتیاز نہیں پیدا کرتا بلکہ برخلاف اس کے اس قسم کے محققین زیادہ تر یورپ و امریکہ میں پائے جاتے ہیں جہاں دہریت کے خیالات بلاد مشرقی کی نسبت زیادہ رونما ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال ایک سراسر دھو کے پر مبنی ہے کیونکہ یورپ و امریکہ کے لوگ مذہبا د ہر یہ نہیں ہیں بلکہ خدا کو مانتے ہیں اور خواہ ان کا ایمان کیسا ہی ناقص اور کمزور سمجھا جائے وہ بہر حال خدا کے منکرین میں سے نہیں سمجھے جاسکتے اور یہ بات ان کے مسلمہ معتقدات میں داخل ہے کہ ہر چیز خدا کی پیدا کردہ ہے۔پس فی زمانہ حقائق الاشیاء کے علم میں ان کا بڑھا ہو اہونا ہرگز موجب اعتراض نہیں ہوسکتا۔باقی رہا یہ امر کہ ان میں دہریوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے سو یہ بھی ایک خیال ہی خیال ہے کیونکہ جب تک اعداد و شمار سامنے نہ ہوں اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بالکل ممکن ہے کہ بلاد مشرقی میں مغرب کی نسبت دہر یہ خیال کے لوگ زیادہ ہوں۔بہر حال جب تک کوئی بات ثابت نہ ہو اس پر کسی دعوی کی بنیاد کیونکر رکھی جاسکتی ہے؟ علاوہ ازیں ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ چونکہ مغرب کے لوگ ظاہری علوم میں زیادہ ترقی یافتہ ہیں اس لئے اُن کے سارے خیالات خواہ وہ انفرادی ہوں یا قومی دنیا کے سامنے آجاتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلہ میں مشرقی ممالک میں بوجہ تعلیم 193