ہمارا خدا — Page 162
بیان کر دی ہیں اور میں اُمید کرتا ہوں کہ ایک سلیم الفطرت اور فہمیدہ انسان جو خواہ نخواہ شبہات پیدا کرنے کا عادی نہیں ہے میرے اس مختصر بیان سے اس حد تک ضرور تسلی پاسکے گا جس حد تک کہ عقلی دلائل کے امکان میں ہے۔باقی جیسا کہ میں اس مضمون میں دوسری جگہ ذکر کر چکا ہوں حقیقی اطمینان اور عین الیقین تو ذاتی تجربہ اور مشاہدہ سے ہی حاصل ہوسکتا ہے اور مشاہدہ کے لئے انبیاء اور اولیاء کی زندگیوں کا مطالعہ کرنا اور ان کے رستہ پر گامزن ہونا ضروری ہے جس کی تھوڑی سی جھلک انشاء اللہ آگے چل کر اپنے موقعہ پر بیان کی جائے گی۔ایمان باللہ کے عظیم الشان فوائد اس کے بعد میں ہستی باری تعالیٰ کے متعلق چند ایسے دلائل بیان کرنا چاہتا ہوں جواس اصول پر مبنی ہیں کہ خدا پر ایمان لانا اپنے اندر بعض ایسے اہم فوائد رکھتا ہے جو بغیر اس پر ایمان لانے کے کسی اور طریق سے پوری طرح حاصل نہیں ہو سکتے۔ظاہر ہے کہ دنیا میں جب کوئی چیز اختیار کی جاتی ہے تو اس اصول پر کی جاتی ہے کہ وہ کس حد تک مفید اور نفع بخش ہے۔بنی نوع انسان پر اس چیز کا اختیار کرنا کیا فائدہ مند اثر پیدا کرتا ہے؟ پس اگر یہ بات ثابت ہو جائے کہ خدا پر ایمان لا نانسلِ انسانی کے لئے بہت مبارک اور نفع بخش ہے تو ہر عقلمند اس بات سے اتفاق کرے گا کہ اس صورت میں اور نہیں تو صرف اس فائدہ کی خاطر ہی خدا کے عقیدہ کو ترک نہیں کرنا چاہئے۔بیشک ان دلائل سے یہ استدلال نہیں ہوسکتا کہ اس دنیا کے اوپر کوئی خدا ہے یا ہونا چاہئے۔لیکن ان سے یہ ضرور پتہ چلتا ہے کہ خدا کا عقیدہ نسلِ انسانی کی ترقی اور بہبودی کے لئے نہایت مفید ہے اور چونکہ مفید چیز اختیار کی جانی چاہیئے اس لئے یہ دلائل بھی ہستی باری تعالیٰ کی تائید 162