ہمارا خدا — Page 153
مجنون یا ناقص الفہم یا مخبوط الحواس بھی نہیں ہیں بلکہ اُن لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں جو دل و دماغ کی اعلیٰ ترین طاقتیں لے کر دُنیا میں آئے تھے۔اندریں حالات ان لوگوں کی شہادت اہل بصیرت کے نزدیک وہ وزن رکھتی ہے جو کسی اور شہادت کو حاصل نہیں ہوسکتا۔میرے عزیز و ! خوب سوچو اور غور کرو کہ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف قوموں میں مختلف زمانوں میں مختلف لوگ پیدا ہوتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی راست گفتاری اور دیانت و امانت ہر قسم کے شک وشبہ کے احتمال سے بالا ہے اور ان کی دماغی حالت بھی پوری طرح صحیح اور تمام نقصوں سے پاک سمجھی گئی ہے۔بلکہ وہ اپنی بے مثل راست گفتاری اور اعلیٰ دماغی طاقتوں میں دوسروں کے واسطے ایک نمونہ سمجھے جاتے ہیں اور یہ لوگ تعداد میں بھی دس ہیں یا سو پچاس نہیں بلکہ ہزاروں ہیں اور مختلف ملکوں اور مختلف زمانوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔اور یہ سب لوگ دنیا کے سامنے اپنی ذاتی شہادت پیش کرتے ہیں کہ یہ دنیا و مافیہا ایک بالا ہستی کے قبضہ و تصرف میں ہے۔اور یہ کہ ہم نے اس بالا ہستی کو اسی طرح دیکھا اور محسوس کیا ہے جس طرح ہم دوسری غیر مادی چیزوں کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہمارے اسی طرح کے تعلقات قائم ہیں جس طرح ہم اس دنیا کی محسوس و مشہور چیزوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔کیا یہ شہادت اس قابل نہیں کہ اسے قبول کیا جاوے؟ اگر یہ شہادت قابل قبول نہیں تو دنیا میں کوئی شہادت بھی ایسی نہیں ہو سکتی جو قابل قبول ہو۔دو ہی باتیں ہیں جو کسی شہادت کے متعلق شبہ پیدا کر سکتی ہیں۔اول یہ کہ شاہد کی راست گفتاری مشتبہ ہو’ دوسرے یہ کہ شاہد ناقص الفہم ہو۔کیونکہ اس سے یہ احتمال پیدا ہوتا ہے کہ گو وہ دیدہ و دانستہ جھوٹ نہ بولے لیکن بوجہ ناقص الفہم ہونے کے اس مشاہدہ اور تجربہ میں غلطی واقع ہوسکتی ہے لیکن یہاں یہ دونوں باتیں مفقود ہیں اور نہ 153