ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 129 of 255

ہمارا خدا — Page 129

ہاں بیشک خود اس انتہائی مرتبہ کے اندر مختلف ما تحت مراتب کا وجود ضرور پایا جاتا ہے اور ہر شخص اپنی استعداد اور جدو جہد کے مطابق یقین کا مرتبہ حاصل کرتا ہے، لیکن اس جگہ اس تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔الغرض یقین کے مختلف مراتب ہیں اور ” ہونا چاہئے“ والا مرتبہ جس کے متعلق اس وقت ہم بحث کر رہے ہیں ان مراتب میں سے ابتدائی مرتبہ ہے جسے ” علم الیقین کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔غلبہ رُسل کی دلیل ہستی باری تعالیٰ کی وہ دلیل جومیں اب پیش کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ جب سے دُنیا کی تاریخ محفوظ ہے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی خدا پر ایمان لانے والوں اور خدا کا انکار کرنے والوں کا (خواہ وہ انکار عقیدہ کا ہو یا ملی ) مقابلہ ہوا ہے غلبہ ہمیشہ ایمان لانے والوں کے ساتھ رہا ہے۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ ایمان لانے والوں کی نصرت میں کوئی غیبی ہاتھ کام کرتا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ ہر قسم کے اختلاف میں مومن بہر حال کافر کے خلاف فتح پاتا ہے کیونکہ عام حالات میں فتح و شکست قانون نیچر کے ماتحت آتی جاتی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اگر ایک کافر کامیابی کے طریق کو اختیار کرتا ہے اور ایک مومن نہیں کرتا تو کافر کو فتح نصیب نہ ہو اور مومن کو ہو جائے۔عام حالات میں ایسا کبھی نہیں ہوگا بلکہ کامیابی اسی کا حصہ رہے گی جو کامیابی کے رستے پر چلتا ہے خواہ وہ کوئی ہو۔پس اس جگہ دنیا کے عام اختلافات اور مقابلے میرے مد نظر نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ جب کبھی بھی کوئی راستباز شخص اس دعوئی کے ساتھ دنیا میں کھڑا ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے میری زندگی کا یہ مشن مقرر کیا گیا ہے کہ میں ایمان کو دُنیا میں قائم کروں تو پھر وہ ضرور اپنے مشن میں کامیاب ہو کر رہتا ہے اور دُنیا کی کوئی طاقت اس کی کامیابی کے رستہ میں روک نہیں ہوسکتی۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے:۔129