ہمارا خدا — Page 99
یہ بات عقلاً ناممکن ہے کہ یہ دونوں مفہوم ایک وجود میں جمع ہوں کیونکہ جہاں خدائیت کا مفہوم اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ صرف اس ہستی کا نام خدا رکھا جائے جو سب سے بالا ہے وہاں مخلوقیت کا مفہوم اس بات کا متقاضی ہے کہ جس ہستی کو ہم مخلوق قرار دیں اس کے اوپر کوئی اور ہستی بھی ہو۔پس یہ دونوں مفہوم کسی صورت میں بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔خوب سوچ لو کہ کسی ہستی کو مخلوق قرار دینے کے یہ معنی ہیں کہ ہم اُس ہستی کے اوپر ایک اور بالا ہستی کے وجود کو تسلیم کریں جو اس کی خالق و مالک ہے۔پس اگر خدا کو مخلوق سمجھا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ خُدا کے اوپر بھی ایک اور ہستی موجود ہے جو خدا کی خالق ہے، خدا کی مالک ہے، خدا پر حکمران ہے اور جس کے سہارے پر خدا کی ذات قائم ہے غرض جو ہر طرح اور ہر جہت سے خُدا سے بالا اور فائق ہے۔اب غور کردو کہ اگر واقعی کوئی ایسی بالا ہستی موجود ہے تو پھر وہی بالا ہستی ہی خدا ہوئی نہ کہ یہ نام نہاد ماتحت خدا ، جو مخلوق بھی ہے اور مملوک بھی ہے اور محکوم بھی ہے۔کون عقلمند ہے جو اس بالا ہستی کے موجود ہوتے ہوئے اس ماتحت ہستی کے متعلق خُدا کا لفظ استعمال کر سکتا ہے؟ ہاں پھر سوچو اور غور کرو کہ تم صرف اس وقت تک کسی ہستی کا نام خدا رکھ سکتے ہو جب تک کہ تم اسے غیر مخلوق سمجھتے ہو اور جو نہی کہ تم اس کے متعلق مخلوق ہونے کا سوال پیدا کرو تم مجبور ہو جاتے ہو کہ اس کے اوپر ایک بالا ہستی کے وجود کو تسلیم کرو جو اس کی خالق و مالک ہے۔اور اس بالا ہستی کو تسلیم کرتے ہی خدائیت کا مفہوم اس ماتحت ہستی سے خارج ہو کر فوراً اُس بالا ہستی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔الغرض جس ہستی کو بھی مخلوق قرار دیا جائے وہ خدا نہیں رہ سکتی کیونکہ اس صورت میں خدا اس ہستی کا نام رکھا جائے گا جو اس کی خالق اور اُس پر فائق ہے۔پس ثابت ہوا کہ خدائیت اور مخلوقیت کے مفہوم کبھی بھی ایک وجود میں جمع نہیں ہو سکتے۔یعنی یہ ناممکن ہے کہ ایک ہستی خدا بھی ہو اور مخلوق بھی۔اور جب یہ ناممکن ہو ا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جب ہم کسی ہستی کو 99