ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 88 of 255

ہمارا خدا — Page 88

اسی خیال پر قائم ہو گئے کہ یہ دنیا ایک مشین کے طور پر چل رہی ہے اور دُنیا کے یہ سارے تغیرات اور نظائر اسی اندرونی میکینزم (Mechanism) یعنی اندرونی صنعت کا نتیجہ ہیں وغیرہ وغیرہ۔اس شبہ کا جواب اوپر دیا جا چکا ہے کہ اگر غور سے دیکھا جاوے تو جس رنگ کا قانونِ صنعت دُنیا میں پایا جاتا ہے وہ خود اس بات کو چاہتا ہے کہ دنیا کے اوپر ایک الگ بالا ہستی کے وجود کو مانا جائے جس نے اس نہایت حکیمانہ قانون کو مادہ میں ودیعت کر رکھا ہے اور پھر مادہ اپنے حالات وکوائف سے بھی ایک خالق و مالک ہستی کو چاہتا ہے۔اور پھر یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ دنیا میں صرف میکینزم (Mechanism) ہی نہیں ہے بلکہ نیچر کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے کہ دُنیا میں ایک خاص ترتیب یعنی ڈیزائن (Design) اور ایک علت غائی یعنی ٹیلی آلوجی (Teleology) بھی پائی جاتی ہے اور یہ سب باتیں ایک مستقل مدرک بالا رادہ خالق و مالک ہستی کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔چنانچہ آگے چل کر اس بات کو مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔دوسری بات جس کی وجہ سے یورپ کا جدید فلسفہ بعض لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن گیا ہے یہ ہے کہ مسئلہ ارتقاء نے خلق عالم اور خصوصاً خلق انسان کو ایسے رنگ میں پیش کیا ہے جو اس زمانہ کے معروف الہامی مذاہب کی عرفی تعلیم کے خلاف نظر آتا ہے اور یہ طبعی امر ہے کہ جب کسی الہامی مذہب پر کوئی ایسا حملہ ہو جو اُس کی صحت کولوگوں کی نظر میں مشتبہ کر دے اور انسان اُس کے جواب اور حل کی طاقت نہ رکھتا ہو تو طبعا وہ خدا کی ہستی کے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے لگتا ہے اور بزعم خود یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جب وہ بات بھی جو خدا کی طرف منسوب کی جاتی تھی غلط نکلی تو پھر یہ سب کارخانہ مذہب کا باطل ہے اور خدا بھی ایک خیال موہوم کے سوا کچھ نہیں۔بعینہ یہی صورت مسئلہ ارتقاء کے متعلق اس زمانہ کے لوگوں کو پیش آئی ہے۔مسیحی لوگ اپنے 88