ہمارا خدا — Page 83
نزدیک مسلم ہے اور ان باتوں کے متعلق کسی کو اختلاف نہیں بلکہ اختلاف صرف انہی باتوں میں ہے جو یا تو ابھی تک پوری طرح ثابت نہیں ہوئیں اور یا پھر بعض سائنسدانوں کے خیالات اور قیاسات ہیں جو انہوں نے ثابت شدہ حقائق کی بنا پر عقلی استدلالات کر کر کے تھیوریوں کی صورت میں قائم کئے ہیں۔الغرض سائنس کے ثابت شدہ حقائق کے متعلق قطعاً کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا، لیکن ہستی باری تعالیٰ کے عقیدہ کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے سائنسدان خدا کے قائل ہیں بلکہ دراصل اگر دیکھا جائے تو بہت تھوڑے اِن میں سے ایسے ہیں کہ جو خُدا کا انکار کرتے ہیں اور زیادہ وہ ہیں کہ جو انکار نہیں کرتے۔پس ثابت ہوا کہ سائنس کی کوئی ثابت شدہ حقیقت ایسی نہیں ہے کہ جس سے یہ یقینی استدلال ہو سکے کہ یہ کارخانہ عالم خود بخود بغیر کسی خالق و مالک کے چل رہا ہے ورنہ سائنسدانوں میں یہ اختلاف نہ ہوتا۔اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر آئندہ زمانہ میں کوئی ایسی بات ثابت ہو جائے جس سے یہ پتہ لگے کہ یہ دنیا ومافیہا خود اپنے آپ سے ہی ہے اور خود بخودہی چل رہی ہے تو پھر کیا جواب ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس قسم کا خیال ہی فضول بلکہ محض طفلانہ ہے کہ اگر یہ ہو جائے تو کیا ہوگا اور وہ ہو جائے تو کیا ہوگا، لیکن اگر اس سوال کو خواہ نخواہ پیدا ہی کرنا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہم تو صداقت کے طالب ہیں جو بات بھی واقعی اور حقیقی طور پر ثابت ہو جائے ہمیں اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔ہمارے رسول ﷺ ( فداہ نفسی) کو فرما تا ہے کہ تم میچوں سے کہد و کہ خدا کا کوئی بیٹا نہیں ہے بلکہ اس کا کوئی بیٹا مانا ایسا باطل اور خطر ناک فعل ہے کہ قریب ہے کہ اس سے زمین و آسمان تہ و بالا ہو جائیں لیکن با ینہمہ مسیحیوں سے یہ بھی کہد و کہ اگر خدا کا کوئی بیٹا ثابت ہو تو آنا اَوَّلُ الْعَابِدِيْنَ " یعنی " اس صورت میں میں سب سے پہلا شخص اس کی عبادت کرنے سورة الزخرف۔آیت 82 83