ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 82 of 255

ہمارا خدا — Page 82

مرعوب ہو کر یا کسی اور وجہ سے اس سارے رطب و یابس کے مجموعہ کو ہی سائنس کی ثابت شدہ حقیقت قرار دینے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ اصل ثابت شدہ حقیقت بہت تھوڑی ہوتی ہے اور باقی سب سائنسدانوں کی تھیوریاں اور قیاسات اور خیالات ہوتے ہیں جو نہ صرف یہ کہ آئے دن بدلتے رہتے ہیں بلکہ ان کے متعلق خود سائنسدانوں میں بھی ہمیشہ اختلاف رہتا ہے۔الغرض یہ ایک خطرناک غلطی ہے کہ (اوّل) سائنسدانوں کے قیاسات اور (دوم) سائنس دانوں کے نامکمل تجربات اور (سوم) سائنس کے ثابت شدہ حقائق میں فرق نہیں کیا جاتا۔بلکہ ہر اک بات جو کسی سائنسدان کے منہ یا قلم سے نکلتی ہے اس کے سامنے غلاموں کی طرح گردنیں جھکا دی جاتی ہیں اور بدقسمتی سے یہ ذہنی اور علمی غلامی زیادہ تر مشرقی لوگوں کے ہی حصہ میں آئی ہے ورنہ خود یورپ اور امریکہ والے عموماً ان باتوں میں امتیاز ملحوظ رکھتے ہیں اور سائنس کے حقائق صرف انہی باتوں کو قرار دیتے ہیں جو واقعی بار بار کے تجربات سے مشاہدہ میں آچکی ہیں اور علمی طور پر بھی اُن کے متعلق کوئی تاریکی کا پہلو نہیں رہا۔اب اگر اس اصل کے ماتحت سوال زیر بحث پر نظر ڈالی جائے تو سائنس کی کوئی ثابت شدہ حقیقت بھی ایسی نظر نہیں آتی جس کی بنا پر ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کوئی اعتراض وارد ہو سکتا ہو اور اس کا ادنیٰ ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی جدید تحقیق واقعی پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے تو پھر کوئی سائنسدان اس کا منکر نہیں رہ سکتا۔کیونکہ پایہ ثبوت کو پہنچنے کے یہ معنے ہیں کہ وہ نہ صرف علمی طور پر یقین کی حد کو پہنچ جائے بلکہ بار بار کے تجربات سے جو مختلف حالات کے ماتحت کئے گئے ہوں اس کا ایسے رنگ میں عملی مشاہدہ بھی ہو جائے کہ پھر اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے۔اور ظاہر ہے کہ اس مقام پر پہنچ کرکوئی سائنسدان بلکہ کوئی شخص بھی جو تھوڑا بہت شعور رکھتا ہے اس کا منکر نہیں رہ سکتا۔اور عملاً بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سائنس کی ہر ثابت شدہ حقیقت تمام سائنسدانوں کے 82