ہمارا خدا — Page 81
مسبب کے رنگ میں قطعی طور پر ثابت و قائم ہوچکی ہے۔مگر ان کے علاوہ سائنس دانوں کے جو باقی خیالات یا تھیوریاں ہیں یا جو اُن کے نامکمل تجربات ہیں وہ ہرگز ثابت شدہ حقائق نہیں کہلا سکتے کیونکہ اُن میں اتنا ہی غلطی کا احتمال ہے جو دوسرے سمجھدار اور دانا لوگوں کی باتوں کے متعلق ہوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی نئی بات سائنس کے تجربات کی رو سے عملی مشاہدہ میں آکر دریافت ہوتی ہے اور پھر مختلف لوگوں کے بار بار تجربات سے جو مختلف حالات کے ماتحت کئے جاتے ہیں وہ پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے اور علمی طور پر بھی اس کے کسی پہلو کے متعلق تاریکی نہیں رہتی تو تب جا کر وہ ایک ثابت شدہ حقیقت سمجھی جاتی ہے اور اس مرحلہ سے قبل گوسائنس کے بعد تجربات سے اُس پر روشنی پڑتی ہو اور بعض سائنسدان اس کے قائل بھی ہو گئے ہوں مگر وہ ایک ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دی جاسکتی۔لیکن بد قسمتی سے عوام الناس ان ہر دو قسم کی باتوں میں تمیز نہیں کرتے۔اور سب کو ہی سائنس کے ثابت شدہ حقائق سمجھ کر ان کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔اور اس سے بھی بڑھ کر اندھیر یہ ہے کہ سائنس کی تحقیقاتوں کی بنا پر جو خیالات اور تھیوریاں سائنسدان قائم کرتے ہیں وہ بھی سائنس کے ثابت شدہ حقائق قرار دے لئے جاتے ہیں گویا تین مختلف چیزوں کو جو ایک دوسرے سے بالکل ممتاز و متغائر ہیں مخلوط کر دیا جاتا ہے اور اس طرح پر سائنس جس کا کام نسلِ انسانی کے دماغوں کو علمی روشنی پہنچانا ہے بعض اوقات جہالت اور تاریکی کا موجب ہو جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ جب کوئی بات سائنس کے تجربات اور مشاہدات کی رُو سے پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے تو پھر اُس کی بنا پر طبعا دنیا کے علمی طبقہ میں ایک حرکت پیدا ہوتی ہے اور مختلف سائنسدان اس جدید تحقیق کی روشنی میں مختلف خیالات اور مختلف تھیوریاں قائم کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح ہر جدید تحقیق کے ساتھ جدید خیالات اور جدید تھیوریوں کا وجود بھی پیدا ہوتا جاتا ہے اور ناواقف لوگ سائنس کے لفظ سے 81