ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 80 of 255

ہمارا خدا — Page 80

نے اس بات کا پتہ لگا لیا ہے کہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور یہ کہ نظامِ عالم خود بخود ایک سلسله قانون کے ماتحت جاری ہے اور یہ قانون بھی خود بخود ہی چل رہا ہے اور حیات کا بھی خود بخود آغاز ہو گیا ہے اور اس تحقیق سے نتیجہ وہ یہ عقلی استدلال کر سکتے ہیں کہ کوئی خدا نہیں ہے۔مگر خدا کا نہ ہونا خود اپنی ذات میں بلاواسطہ طور پر سائنس کی تحقیق میں داخل نہیں۔علاوہ ازیں ایک اور بات بھی یادر کھنے کے قابل ہے اور وہ یہ کہ بد قسمتی سے لوگ سائنس کے متعلق عموماً ایک خطرناک غلطی میں مبتلا ہیں۔یعنی وہ سائنسدانوں کے قیاسات اور سائنس کے ثابت شدہ حقائق میں تمیز نہیں کرتے۔ظاہر ہے کہ سائنسدانوں کے اعلانات تین قسموں میں منقسم ہوتے ہیں:۔(اول) سائنس دانوں کے قیاسات ( دوم )سائنس کے نامکمل تجر بات۔اور ( سوم ) سائنس کے ثابت شدہ حقائق۔یہ تینوں الگ الگ حیثیت اور الگ الگ درجہ رکھتے ہیں اور انہیں ایک ساوزن دینا خطرناک غلطی ہے۔مگر نا واقف لوگ ان سب کو ایک سا درجہ دے دیتے ہیں اور ہر ایک بات کو جو سائنس دانوں کے منہ سے نکلتی ہے اور ہر ایک خیال کو جس کا اُن کی طرف سے اظہار کیا جاتا ہے اور اسی طرح تمام ان نامکمل تجربات اور مشاہدات کو جن کا سائنس دانوں کی طرف سے اعلان ہوتا رہتا ہے سائنس کے ثابت شدہ حقائق قرار دے لیتے ہیں اور اس طرح صداقت کی اتباع اختیار کرنے کی بجائے اپنی جہالت سے سائنسدانوں کی شخصی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیتے ہیں۔حالانکہ ہر شخص جو تھوڑا بہت علم رکھتا ہے جانتا ہے کہ سائنس کے ثابت شدہ حقائق صرف وہی قرار دیئے جاسکتے ہیں کہ جو مختلف سائنسدانوں کے ہاتھ پر بار بار کے تجربات سے روز روشن کی طرح مشاہدہ میں آچکے ہیں اور آتے رہتے ہیں اور جن کی حقیقت علمی طور پر بھی سبب اور 80