ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 79 of 255

ہمارا خدا — Page 79

هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِى السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ۔یعنی ” جو کچھ دُنیا میں ہے خواہ زمین میں یا آسمانوں میں وہ سب تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر رکھا ہے تا کہ تم اُن کے حقائق سے آگاہ ہو کر اُن سے فائدہ اُٹھاؤ۔“ مگر افسوس انسان پر کہ جن چیزوں کو اُن کے آقا و مالک نے اُس کی ہدایت اور ترقی کے لئے پیدا کیا تھا انہی کو اُس نے اپنی گمراہی اور ہلاکت کا سبب بنالیا۔قتل الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ۔یقینا یہ ناشکری انسان کو تباہی کے سوا کسی اور طرف نہیں لے جاسکتی۔اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ دراصل یہ سوال کہ کوئی خدا موجود ہے یا نہیں ،سائنس کے حقیقی دائرہ عمل سے باہر ہے اور کوئی سائنسدان اپنے دائرہ کے اندر رہتے ہوئے اس بحث میں نہیں پڑ سکتا۔کیونکہ سائنس مادیات کے خواص اور قوانین کے دریافت کرنے کا علم ہے اور غیر مادی اشیاء کی بحث یا زیادہ صیح طور پر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ماوراء المادیات (Metaphysics) کی بحث کم از کم سائنس کے موجودہ دائرہ عمل سے باہر ہے۔علاوہ ازیں سائنس کو بالعموم اس بات سے تعلق نہیں کہ کونسی چیز نہیں ہے بلکہ اُسے زیادہ تر اس بات سے سروکار ہے کہ کونسی چیز ہے اور پھر یہ کہ جو چیز ہے وہ کیا ہے اور کس قانون کے ماتحت ہے۔پس یہ حقیقت کہ خدا نہیں ہے کم از کم موجودہ سائنس کی بحث سے خارج ہے۔ہاں البتہ یہ بحث سائنس کے دائرہ عمل میں آسکتی ہے کہ یہ دنیا اور اس کی چیزیں کس طرح عالم وجود میں آئی ہیں اور حیات کا آغاز کس طرح ہوا ہے وغیر ذالک۔پس سائنس دان زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم سورة البقرة - ايت 30 ٢ سورة الجاثیه ایت 14 ٣ سورة عبس۔ایت18 79