ہمارا خدا — Page 53
یہی تقاضا فطرت کی آواز کہلائے گا چنانچہ اس فطری آواز کو زندہ رکھنے کے واسطے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا یعنی اے انسان! تو اپنی توجہ اعتدال کی حالت میں رکھتا کہ تو اس فطری حالت پر قائم رہ سکے جس پر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔اب ہر شخص اپنے اندر غور کرے کہ کیا اس کی فطرت ہستی باری تعالیٰ کے متعلق کوئی آواز پیدا کر رہی ہے یا نہیں ؟ کیا وہ جب الگ ہو کر اپنے دل سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا میر اوجود محض ایک اتفاق کا نتیجہ ہے یا کہ مجھے کسی بالا ہستی نے پیدا کیا ہے تو اُسے اس سوال کے جواب میں بغیر اس کے کہ وہ عقلی دلائل کے رستہ پر پڑ کر سوچ بچار کے نتیجہ میں کوئی رائے قائم کرے کوئی فطری آواز سنائی دیتی ہے یا نہیں؟ قرآن شریف فرماتا ہے:۔وَإِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ أَشْهَدَ هُمْ عَلَى اَنْفُسِهِمْ ، اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ، قَالُوْا بَلَى شَهِدْنَا ۚ أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَفِلِيْنَ۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جب بنی نوع انسان کی نسل کو چلایا تو خود اُن سے اُن کے نفسوں پر شہادت کی اور پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے۔اور یہ خدا نے اس لئے کیا کہ تا قیامت کے دن تمہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہمیں تو خدا کے متعلق کچھ پتہ ہی نہیں لگا۔اس آیت کریمہ سے یہی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو جس طرح دوسرے خواص وصفات اس کے اندر ودیعت کئے اسی طرح یہ بات بھی اس کی ل سورة الروم - آیت 31 53 سورۂ الاعراف آیت 173