ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 52 of 255

ہمارا خدا — Page 52

والدین کی ناراضگی سے ڈر کر اُن سے اپنے اس فعل کو چھپانا چاہتا ہے اور یہ پہلا پردہ ہوتا ہے جو اُس کی فطرت پر پڑتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ اس بات کے لئے بھی تیار ہو جاتا ہے کہ کام تو وہی کرتا ہے جو اسے پسند ہوتا ہے لیکن والدین سے اُسے نہ صرف چھپاتا ہے بلکہ اُن کے دریافت کرنے پر خلاف واقعہ بیان دے دیتا ہے کہ میں نے یہ کام نہیں کیا اور اس طرح اس کا یہ فطری جذبہ کہ ہر معاملہ میں سچی سچی بات کہہ دینی چاہئے ،ظلمت کے پردوں کے نیچے دیتا چلا جاتا ہے حتی کہ وہ وقت آتا ہے کہ جب وہ گویا اپنی فطرت کو بالکل ہی بھول جاتا ہے۔ایسے ہی موقعہ پر کہتے ہیں کہ فلاں شخص کی فطرت مرچکی ہے حالانکہ دراصل فطرت بھی نہیں مرتی بلکہ صرف بیرونی اثرات کے نیچے دب کر مستور و محجوب ہو جاتی ہے۔اسی طرح دوسرے فطری جذبات کا حال ہے۔مثلاً محبت۔نفرت حلم غضب عفو۔انتقام - شجاعت۔خوف۔عفت شہوت۔ترقی کی خواہش۔تنزل سے نفرت اور اسی قسم کے دوسرے جذبات فطرت انسانی کے اندر طبعی طور پر مرکوز ہیں لیکن بیرونی اثرات ان کو دباتے یا چمکاتے رہتے ہیں۔یعنی کبھی تو یہ خواص افراط کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور کبھی تفریط کی طرف جھک جاتے ہیں اور کبھی حد اعتدال کے اندر اندر رہتے ہیں۔ان حالات میں فطرت کی آواز کا سوال ایک بہت نازک اور مشکل سوال ہے اور سوائے اس شخص کے جس کے فطری جذبات اعتدال کی حالت میں ہوں دوسرے لوگ خود اپنی فطرت کے متعلق بھی عموماً دھوکا کھا جاتے ہیں لیکن بایں ہمہ اس میں شک نہیں کہ فطرت ایک حقیقت ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا اور ہر فطری خاصہ کا ایک تقاضا ہوتا ہے جو اُس کی آواز کہلاتا ہے۔مثلاً راست گفتاری ایک فطری خاصہ ہے اور اس خاصہ کا یہ تقاضا ہے کہ جب کوئی موقعہ پیش آئے تو جو بھی واقعہ ہے اُس کے مطابق انسان اپنا بیان دے۔نہ کوئی بات خلاف کہے اور نہ کوئی بات زیادہ کرے اور 52