ہمارا خدا — Page 50
دے گی کہ خُدا پر ایمان لانا ہی اقرب بالامن ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ اگر تو خدا کوئی نہیں تو سب برابر ہوئے۔ہمیں اُس پر ایمان لانے میں کوئی نقصان نہیں۔اور اگر خدا ہے تو ماننے والے فائدہ میں رہے اور انکار کرنے والے اپنا انجام آپ سوچ لیں۔اگر کوئی شخص یہ شبہ پیدا کرے کہ ایسا ایمان کس کام کا ہے جس کی بنیاد حقیقت پر نہیں بلکہ محض احتیاطی پہلو پر ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک ایسا ایمان حقیقی ایمان نہیں کہلاسکتا لیکن نہ ہونے سے ضرور بہتر ہے اور کم از کم ایسا شخص اس قسم کے ایمان کی وجہ سے خدا کی طرف کچھ نہ کچھ متوجہ رہے گا اور یہ توجہ اُسے حقیقی ایمان کے حصول میں بطور زمینہ کے کام دے سکے گی۔علاوہ ازیں یہ ایمان گیا ہے گاہے نیک اعمال کے لئے بھی محرک ہوسکتا ہے۔بہر حال خواہ یہ ایمان کیسا ہی ناقص ہو، نہ ہونے سے یقینا بہتر ہے اور جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں ایسا ایمان اس احتیاطی دلیل کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوسکتا ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس سے محروم رہیں۔فطری دلیل اس کے بعد میں اصل دلائل کو شروع کرتا ہوں۔سب سے پہلی دلیل جو ہستی باری تعالیٰ کے متعلق میں پیش کرنا چاہتا ہوں وہ فطری دلیل ہے۔خدا تعالیٰ کے متعلق تحقیق کی ضرورت کے مضمون پر بحث کرتے ہوئے میں نے بتایا تھا کہ ہماری فطرت خود اس سوال کو ہمارے اندر پیدا کر رہی ہے کہ آیا کائناتِ عالم کا کوئی خالق و مالک ہے یا نہیں ؟ اس لئے ہم اس سوال کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ فطرتِ انسانی یہ سوال پیدا کر کے خاموش نہیں ہو جاتی بلکہ اس کا جواب بھی دیتی ہے اور وہ لوگ جو فطرت کی آواز سُننے کے عادی ہیں وہ اس آواز کو بھی سنتے ہیں اور سن سکتے ہیں۔فطرت سے کیا مراد ہے؟ اس سوال کا جواب بھی اچھی طرح سمجھ لینا 50