ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 255

ہمارا خدا — Page 30

متفق ہیں کہ اس کا رخانہ عالم کا ایک خالق و مالک ہے جس کے قبضہ تصرف میں ہماری جانیں ہیں اور یہ کہ ہمارے اس خالق و مالک نے ہماری زندگیوں کا ایک مقصد مقرر کیا ہے جس کے حصول کا طریق بھی اس نے خود ہمیں بتا دیا ہے اور یہ کہ موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ موت کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں انسان اپنی موجودہ زندگی کے اعمال کا ثمرہ پائیگا وغیرہ وغیرہ۔مذاہب کی یہ متفقہ شہادت ہمارے سامنے ہستی باری تعالیٰ کا سوال ایسے رنگ میں پیش کرتی ہے کہ ہم مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس تحقیق میں پڑ کر کسی نتیجہ پر پہنچیں۔کیونکہ جو باتیں خدا تعالیٰ کے متعلق یہ مذاہب ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں اگر وہ درست ہوں تو ہمارا اس خدا سے غافل رہنا تمام ان نقصانات سے بڑھ کر ہے جو ہمیں اس دنیا میں ممکن طور پر پہنچ سکتے ہیں کیونکہ اس غفلت کے یہ معنے ہیں کہ گویا ہماری ساری زندگی ہی اکارت چلی گئی اور اس خدا کو شناخت کرنا اور اس کے ساتھ تعلق پیدا کرنا تمام ان فوائد سے بڑھ کر ہے جو ہمیں اس دنیا میں ممکن طور پر حاصل ہو سکتے ہیں کیونکہ اس تعلق کے یہ معنی ہیں کہ جس غرض کے لئے ہم اس دنیا میں بھیجے گئے تھے وہ غرض ہمیں حاصل ہوگئی اور ہم نے اپنی زندگی کا مقصد یا لیا۔پس خدا تعالیٰ کے متعلق تحقیق کرنے کا سوال ایک ایسا اہم سوال ہے جسے کوئی عظمند ایک لمحہ کے لئے بھی نظر انداز نہیں کر سکتا۔مذاہب کی اس متفقہ شہادت کے بعد میں اسلام کی مخصوص تعلیم کے متعلق بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں۔سواے میرے عزیز و ! خوب کان کھول کر سن لو کہ اسلام تم سے یہ کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو تمہارا خالق و مالک ہے۔یعنی جو تمہیں نیست سے ہست میں لایا ہے اور جس کے قبضہ تصرف میں تمہاری جانیں ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو رب ہے یعنی جو تمہاری ہر قسم کی ترقی اور بہبودی کا سامان مہیا کر کے تمہیں کسی اعلیٰ مقام تک پہنچانا چاہتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے جو رحمن 30