ہمارا خدا — Page 29
کر سکتے۔کیا یہ سوال ہمارے لئے ایک لاتعلق سوال ہے کہ ہمارا کوئی پیدا کرنے والا ہے یا نہیں؟ کیا یہ سوال ہمارے لئے ایک لاتعلق سوال ہے کہ اگر ہمیں کسی نے پیدا کیا ہے تو وہ کون ہے؟ کہاں ہے؟ کیا کیا صفت رکھتا ہے؟ کیا یہ سوال ہمارے لئے ایک لا تعلق سوال ہے کہ اگر ہمیں کسی نے پیدا کیا ہے تو ہماری پیدائش کی غرض کیا ہے؟ کیا یہ سوال ہمارے لئے ایک لاتعلق سوال ہے کہ اگر ہماری پیدائش کی کوئی غرض ہے تو وہ غرض کس طرح حاصل ہوسکتی ہے؟ اگر یہ سوالات لاتعلق نہیں ہیں اور ہر گز نہیں نہیں تو کون عقلمند ہے جو اس تحقیق میں پڑنے سے انکار کر سکتا ہے؟ تیسر۔رے درجہ پر مذہب ہے۔دنیا میں جو مذاہب بھی پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب خدا تعالیٰ کی ہستی کا سوال ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں اور نہ صرف پیش کرتے ہیں بلکہ انکی تعلیم کا مرکزی نقطہ ہی اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات ہے اور چونکہ تمام مذاہب جو دنیا میں قائم ہوکر لاکھوں انسانوں کی قبولیت حاصل کر چکے ہیں اپنی اصل کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ان کی بنیا دالہام الہی پر ہے جو مختلف زمانوں میں نازل ہو کر دنیا کو منور کرتارہا ہے۔اس لئے باوجود اس کے کہ ان مذاہب کی تعلیمات بعد کی انسانی دست و بُرد سے بہت کچھ حرف ومبدل ہو چکی ہوں پھر بھی چونکہ ان کی اصل بنیاد کلام الہی پر ہے ان میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق فطرت اور عقل کے اشارات کی نسبت بہت زیادہ وضاحت اور تفصیل اور تعیین پائی جاتی ہے گویا عقل اور فطرت کے اجمال کو الہام نے اپنی تفسیر سے کھول دیا ہے۔علاوہ ازیں مذہب بخلاف فطرت و عقل کے ہمیں صرف یہ نہیں کہتا کہ ممکن ہے کوئی خدا ہو یا یہ کہ کوئی خدا ہونا چاہئے بلکہ وہ معتین طور پر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ واقعی ہمارا ایک خدا ہے جو ہمارا خالق و مالک ہے اور جس نے ہمیں ایک خاص غرض اور مقصد کے ماتحت اس دنیا میں بھیجا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب کی تعلیم میں کتنا بھی اختلاف ہو اس بات پر وہ سب 29