ہمارا خدا — Page 27
والا ہو۔اور اس سوال کے ساتھ ساتھ ہی یہ سوال بھی طبعاً ہمارے اندر پیدا ہورہا ہے کہ اگر ہمیں کسی نے پیدا کیا ہے اور ہم خود بخود اس دنیا میں نہیں آگئے تو ضرور ہمارے خالق کے اس فعل میں کوئی خاص غرض ہوگی اور ضرور ہے کہ اس نے ہماری زندگی کا کوئی مقصد مقرر کیا ہو۔اس قسم کے سوالات ہر انسان کی فطرت کم و بیش پیدا کرتی رہتی ہے۔اس جگہ میں یہ نہیں کہتا کہ فطرت ان سوالات کا کوئی جواب بھی دیتی ہے یا نہیں کیونکہ اس کی بحث آگے آئے گی۔لیکن بہر حال یہ مسلم ہے کہ فطرت ان سوالات کو ہمارے اندر اٹھاتی ضرور رہتی ہے اور اٹھاتی بھی ایسے رنگ میں ہے کہ ہم انہیں لاتعلق کہہ کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔بیشک ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ تحقیق کے بعد ہم یہ رائے قائم کریں کہ فطرت کا یہ سوال بے بنیاد ہے، اور یہ کہ کوئی خدا نہیں ہے بلکہ یہ تمام کارخانہ عالم خود بخود نیست سے ہست میں آیا اور خود بخود ہی چل رہا ہے۔لیکن خوب سوچ لو کہ ان سوالات کے پیدا ہونے کے بعد ہمیں یہ حق حاصل نہیں رہتا کہ ہم اس تحقیق میں پڑنے سے ہی انکار کر دیں۔یہی حال عقلِ انسانی کا ہے۔عقل بھی خواہ بعد میں یہی فیصلہ کرے کہ کوئی خدا نہیں ہے لیکن ان سوالات کو ضرور ہمارے سامنے بڑے زور کے ساتھ پیش کرتی ہے۔بلکہ فطرت کی نسبت زیادہ وضاحت اور زیادہ تفصیل کے ساتھ پیش کرتی ہے۔عقل ہمیں بار بار ہوشیار کرتی اور کہتی ہے کہ دیکھو اور غور کرو۔ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی خدا ہو جس نے تمہیں کسی خاص مقصد کے ماتحت اس دنیا میں بھیجا ہو اور تم اپنے اس خدا اور اپنی زندگی کے اس مقصد سے غافل رہو اور غفلت کی حالت میں ہی تم پر موت آجائے۔اُٹھو! اور اگر کوئی خدا ہے تو اسے تلاش کرو۔سوچو اور غور کرو کہ کیا تمہارا اس دنیا میں آنا صرف اس لئے ہے کہ تم کھاؤ اور پیو اور اپنی جسمانی لذات پوری کرنے کی فکر میں پڑے رہو اور جب موت کا وقت آئے تو تم مرجاؤ اور اپنے پیچھے اپنے بچوں کو چھوڑ جاؤ جو پھر تمہاری 27