ہمارا خدا — Page 250
کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خُدا ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے۔اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح یہ خوشخبری دلوں میں بٹھا دوں اور کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خُدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس روا سے علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں“۔(کشتی نوح) مه اب میں خدا کے فضل سے ہستی باری تعالیٰ کے متعلق عقلی دلائل کی بحث ختم کر چکا ہوں مگر جیسا کہ میں نے اس مضمون کے شروع میں ہی بتادیا تھا یہ دلائل انسان کو صرف اس ایمان تک لے جاتے ہیں کہ اس کا رخانہ عالم کا ضرور کوئی خالق و مالک ہونا چاہئے۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ ہونا چاہئے والا ایمان خواہ وہ کتنا ہی پختہ اور روشن ہو بہر حال اس ایمان سے کمزور اور فروتر ہے کہ اس دنیا کا واقعی ایک خالق و مالک خدا ہے۔کیونکہ جہاں” ہونا چاہئے “ والا ایمان صرف ایک پختہ قیاس اور واضح اشارے کی حیثیت رکھتا ہے وہاں ” ہے“ والے ایمان کو متعین مشاہدہ کا درجہ حاصل ہے جس کے بعد انسان گویا خدا کو عملاً دیکھ لیتا ہے اور کسی امکانی شک وشبہ کی گنجائش بھی باقی نہیں رہتی۔سواس مؤخر الذکر یقین کے دلائل انشاء اللہ کتاب کے دوسرے حصہ میں بیان کئے جائیں و, 250