ہمارا خدا — Page 249
خاتمہ اب میں اس حصہ مضمون کو ختم کرتا ہوں جو ہستی باری تعالیٰ کے متعلق عقلی دلائل کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور جیسا کہ میں نے شروع مضمون میں بیان کیا تھا آخر میں پھر عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے اس مضمون میں بار یک علمی بحثوں سے احتراز کیا ہے اور صرف موٹی موٹی باتوں کو کسی قدر تصریح کے ساتھ بیان کر دیا ہے اور دراصل میرے مخاطب بھی زیادہ تر نوجوان طبقہ کے لوگ ہیں جو بوجہ طبیعت کی خامی کے بعض اوقات جدید تعلیم سے غلط طور پر متاثر ہوکر محمد انہ خیالات قائم کر لیتے ہیں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ ایک صاف دل انسان کے لئے کافی ہے۔اور اگر کسی شخص کے دل میں اس مضمون کے پڑھنے کے بعد بھی کوئی شبہ رہے تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ ان اصولی باتوں کی روشنی میں حل کیا جا سکے گا جو میں نے اس جگہ بیان کی ہیں۔باقی ایسے شخص کا علاج میرے پاس کوئی نہیں ہے اور نہ کسی اور شخص کے پاس ہے جو خواہ مخواہ کجروی کا طریق اختیار کر کے اپنے آپ کو شبہات کے بھنور سے نکالنا نہیں چاہتا یا جو اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھے رکھ کر حق و صداقت کو دیکھنے اور شناخت کرنے کے پر لئے تیار نہیں۔ایسے لوگوں کا علاج صرف خدا کے پاس ہے اور میں دعا کرتا ہوں کہ وہ اُن کے دل کی کجی کو دُور کرے اور اُن کی آنکھوں کی پٹی اتارے اور اپنے فضل خاص سے ایسا انتظام فرمائے کہ اس کا کوئی بندہ بھی ایسی حالت میں دُنیا سے رخصت نہ ہو کہ وہ اپنے خالق و مالک کو نہ پہنچا تا ہو۔کیونکہ اس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی بدقسمتی اور محرومی نہیں کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے اور اپنی زندگی کے سہارے اور اپنی ساری طاقتوں کے منبع و ماخذ کی شناخت کے بغیر دُنیا سے رخصت ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی ایک پیاری تحریر پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: 249