ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 248 of 255

ہمارا خدا — Page 248

خود اپنے خزانوں سے محتاجوں کی امداد کا انتظام کرے تا کہ ہرفرد کو اس کی بنیادی ضروریات کی چیزیں لازماً پہنچتی رہیں۔پیہ وہ سات اصولی طریق ہیں جن کے ذریعہ اسلام نے دُنیا میں دولت کی منصفانہ تقسیم اور غریبوں اور محتاجوں کی امداد کا انتظام کیا ہے ( اسلام اور اشتراکیت کی تفصیلی بحث کے لئے حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تصنیف ” اسلام کا اقتصادی نظام اور خاکسار کے رسالہ ” اشتراکیت اور اسلام کا مطالعہ فرمائیں)۔اور ظاہر ہے کہ اگر ایک طرف افراد کے لئے اپنی ذاتی جدوجہد کے ثمرہ سے فائدہ اُٹھانے کا راستہ کھلا رہے اور انسان کی دماغی طاقتیں اس فطری محرک اور جائز مقابلہ اور مسابقت کے مواقع سے محروم ہو کر منجمد ہونے سے محفوظ رہیں اور دوسری طرف ملک میں دولت کی منصفانہ تقسیم کا نظام بھی قائم ہو اور ملک کی دولت کو سموتے رہنے کا طریق مسلسل جاری رکھا جائے تو یہ ایک نہایت ہی اعلیٰ اعتدال کا رستہ ہوگا جو دونوں طرف (یعنی سرمایہ داری اور اشتراکیت) کی خرابیوں سے بچتے ہوئے دونوں طرف کی خوبیوں کو اپنے اندر جمع کرلے گا اور یہی وہ سنہری رستہ ہے جو اسلام نے اختیار کیا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ روس کی اشتراکیت کو اپنے بنیادی اُصولوں کے لحاظ سے دہریت کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے بلکہ یہ ایک محض اقتصادی نظام ہے جس نے صرف اپنی مضبوطی کے لئے موجود مذاہب کی تعلیم پر بالواسطہ حملہ کیا ہے۔مگر جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں یہ حملہ صرف ایک کو رانہ رد عمل کی حیثیت رکھتا ہے جو لوگوں کو ایک انتہا سے ہٹا کر دوسری انتہا کی طرف لے جا رہا ہے اور اس رد عمل میں ہی اس کی آخری تباہی کا بیج مخفی ہے۔لیکن اس کے مقابل پر جوتعلیم اسلام نے دی ہے وہ پورے پورے اعتدال اور حق و انصاف کی تعلیم ہے اور یقیناً جب روس اپنے موجودہ رد عمل کے خمار سے جاگے گا تو اُسے اسلام کے فطری مذہب کے سوا اور کوئی امن کی جگہ نہیں ملے گی۔248