ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 246 of 255

ہمارا خدا — Page 246

انسان کو انفرادی جد و جہد کے سب سے بڑے فطری محرک یعنی اپنی ذاتی محنت کے پھل کھانے کے حق سے محروم کرتا ہے اور نہ ہی دوسری طرف سرمایہ داری کی طرح ملک و قوم کی دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے یا ایک خاص طبقہ کی اجارہ داری بنے کا راستہ کھولتا ہے۔اور اس کے لئے اسلام نے بعض نہایت حکیمانہ بنیادی احکام جاری کئے ہیں جو چند مختصر فقروں کی صورت میں درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔اول اسلام نے تقسیم ورثہ کا ایسا قانون بنایا ہے کہ اس پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ملک کی دولت خود بخود منصفانہ رنگ میں تقسیم ہوتی رہتی ہے۔کیونکہ اسلام نے صرف بڑے لڑکے یا صرف نرینہ اولاد کو ہی وارث قرار نہیں دیا بلکہ ساری اولاد کے لئے خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ورثہ میں حصہ رکھا ہے اور اولاد کے علاوہ بیوی اور خاوند اور ماں اور باپ اور بعض صورتوں میں بہن اور بھائی اور دوسرے قریبی عزیزوں کو بھی محروم نہیں کیا۔اور یہ عمل ایسا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ملک کی دولت طبعی طور پر مصنفانہ رنگ میں تقسیم ہوتی رہتی ہے اور چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوسکتی۔دوسرے اسلام نے سود لینے اور دینے کو حرام قرار دیا ہے اور چونکہ سود اپنی دوسری خرابیوں کے علاوہ دولت کی ناواجب تقسیم کا ایک بھاری ذریعہ ہے اس لئے اس حرمت کے نتیجہ میں بھی ملکی دولت کے چند ہاتھوں میں جمع ہونے کا رستہ خود بخود بند ہو جاتا ہے۔بیشک موجودہ زمانہ میں سود کا جال وسیع ہو جانے کی وجہ سے بظاہر یہ نظر آتا ہے کہ شاید سود کے بغیر گزارہ نہیں چل سکتا مگر یہ صرف نظر کا دھوکا ہے جو موجودہ ماحول کی وجہ سے پیدا ہو ا ہے ورنہ جب مسلمان نصف دنیا سے زائد حصہ پر حکمران تھے اس وقت سود کے بغیر ہی ساری تجارتیں چلتی تھیں اور انشاء اللہ آئندہ پھر چلیں گی۔تیسرے اسلام نے جوئے کو بھی حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس لغو عادت کے ذریعہ بھی دولت کی ناواجب تقسیم کا رستہ گھلتا ہے اور محنت اور کوشش اور ہنر کے ذریعہ روزی 246