ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 244 of 255

ہمارا خدا — Page 244

2۔کمیونزم کے نظام میں دوسرا بھاری نقص یہ ہے کہ بوجہ اس کے کہ دولت پیدا کرنے کے سارے ذرائع حکومت کے ہاتھ میں چلے گئے ہیں لوگوں میں آہستہ آہستہ مقابلہ اور مسابقت کی رُوح کمزور ہونی شروع ہو جائے گی اور چونکہ بنی نوع انسان کی ترقی میں مسابقت کی رُوح کو بھاری دخل ہے اس لئے اس تبدیلی کا لازمی نتیجہ آہستہ آہستہ قومی تنزل کی صورت میں ظاہر ہو گا۔مثلاً جہاں کئی کمپنیاں یا کئی لوگ موٹر کاروں یا ہوائی جہازوں کے الگ الگ کارخانے جاری کر کے اور الگ الگ محنت اور دماغ سوزی کر کے اس صنعت کو فروغ دینے کے درپے ہو نگے اور اُن کے درمیان جائز رقابت اور مقابلہ اور مسابقت کی روح بھی قائم ہوگی اور ساتھ ساتھ اس صنعت کا کچھ حصہ حکومت کے ہاتھ میں بھی ہو گا وہاں لا ز ما یہ صنعت بہت زیادہ ترقی کر جائے گی اور اس کے مقابلہ میں وہ صنعت کبھی بھی اتنی ترقی نہیں کر سکے گی جو سارے ملک میں ایک ہی نظام کے ماتحت مقابلہ اور مسابقت کے بغیر جاری ہے۔اور اس طرح ملک کا قدم علمی اور صنعتی میدان میں ترقی کی بجائے آہستہ آہستہ تنزل کی طرف پڑنا شروع ہو جائے گا۔بیشک بعض خاص خاص صنعتیں حکومت کے ہاتھ میں رکھی جاسکتی ہیں اور رکھنی چاہئیں مگر اس اصول کو کھلی صورت میں ساری صنعتوں پر جاری کرنا ملک وقوم کی تباہی کا بیج بونا ہے۔3۔اوپر کی دونوں باتوں کالازمی نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ اس قسم کے اشتراکی نظام میں قوم کی دماغی ترقی اور ذہنی نشو ونما کی رفتار آہستہ آہستہ دھیمی ہونی شروع ہو جائے گی اور بالآخر انسانی دماغ ایک ترقی کرنے والی اور بڑھنے والی چیز کی بجائے محض مشین ہو کر رہ جائے گا۔-4 کمیونزم کے نظام میں انفرادی ہمدردی اور مواسات کے جذبات کو بھی کچلا گیا ہے کیونکہ جس صورت میں کہ غرباء اور مستحقین کی اعانت صرف حکومت کے ہاتھ میں 244