ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 229 of 255

ہمارا خدا — Page 229

جس میں قرآن شریف کے اس قول کی صداقت کہ خدا نے زمین و آسمان کی کسی چیز کو باطل نہیں پیدا کیا۔بیش از بیش وضاحت کے ساتھ ثابت نہ ہوتی جاتی ہو۔دُنیا میں ضرر رساں چیزیں کیوں پیدا کی گئی ہیں؟ باقی رہا یہ اعتراض کہ اگر یہ درست ہے کہ خدا نے کسی چیز کو باطل نہیں پیدا کیا اور ہر چیز انسان کے فائدہ کے لئے بنائی گئی ہے تو ان چیزوں کے ضرر رساں پہلو کیوں رکھے گئے ہیں اور ایسا کیوں نہیں کیا گیا کہ تمام چیزیں ضرر رساں ہونے کے بغیر فائدہ بخش ہوتیں؟ مثلاً سانپ سے جو فائدہ انسان کو یا دوسری مخلوق کو پہنچ سکتا تھا وہ کسی ایسے رنگ میں پہنچایا جاتا کہ اس کے ساتھ کوئی ضرررساں پہلو نہ ہوتا۔سو اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ خالق فطرت نے جس طرح مناسب سمجھا اس طرح کیا اور ہمارا یہ کام نہیں کہ نیچر کے افعال کی تفاصیل کو زیر تنقید لائیں اور نہ ہم اس کے اہل ہیں بلکہ ہمارا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ آیا جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے وہ اُصولی اور مجموعی طور پر حق وانصاف اور رحم و عدل پر مبنی ہے یا نہیں؟ لہذا جب یہ ثابت ہے کہ دُنیا کی کوئی چیز محض ضرر رساں نہیں ہے بلکہ اس کے اندر یقینی فوائد مخفی ہیں اور جو چیزیں بے فائدہ اور محض ضرر رساں نظر آتی ہیں وہ بھی درحقیقت ایسی نہیں بلکہ صرف ہمارے علم کی کمی کی وجہ سے وہ ہمیں ایسی نظر آتی ہیں تو نیچر کی تفصیلات میں جا کر یہ سوالات اُٹھانا کہ فلاں چیز کو اس اس طرح کیوں بنایا گیا ہے اور اُس اُس طرح کیوں نہیں بنایا گیا ہر گز سلامت روی کا طریق نہیں سمجھا جا سکتا۔اور نہ کوئی عظمند یہ خیال کر سکتا ہے کہ جو شخص دوسری مخلوقات کی طرح اپنے آپ کو بھی محض مخلوق خیال کرتا ہے وہ اُصول خلق و تکوین میں اس قدر تفصیلی نظر رکھ سکتا ہے کہ ہر چیز کے متعلق وہ یقینی طور پر یہ بتا سکے کہ وہ اِس اِس اُصول کے ماتحت اس اس سورة ص - آیت 28 229