ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 213 of 255

ہمارا خدا — Page 213

تا کہ وہ اس پر عمل پیرا ہو کر اپنے اخلاق کو درست کریں اور خُدا کا قرب حاصل کر کے ان فیوض و برکات سے حصہ پاویں جو خُدا کے پاک بندوں کے لئے مقدر ہیں۔مگر اس قانون کے ماتحت ہر شخص کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے تو اس قانون کی پابندی اختیار کرے اور چاہے تو نہ کرے اور اس کی جزا سزا کے لئے موت کے بعد کا وقت مقرر ہے (سوائے بعض خاص خاص نیم مخفی اثرات کے جو اسی دُنیا میں رونما ہو جاتے ہیں ) مثلاً قانونِ شریعت انسان کو کہتا ہے کہ خدا کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے تمہیں چاہئے کہ اپنے خدا کی اس اس طرح عبادت کرو۔مگر وہ انسان کو اس عبادت پر مجبور نہیں کرتا۔یعنی اگر کوئی شخص اس ہدایت کے خلاف چلنا چاہے تو وہ خلاف ورزی کر سکتا ہے اور کوئی چیز اس کا ہاتھ نہیں روکتی اور گو اس خلاف ورزی کا اثر بار یک طور پر اسی دُنیا میں ظاہر ہو جائے مگر اس کی اصل اور معتین سزا اگلے جہان میں ہی ملتی ہے اور اسی لئے مذہبی لوگوں میں یہ ایک عام مقولہ ہے کہ دنیا دارالعمل ہے اور اگلا جہان دار الجزاء ہے۔مگر قانون نیچر کی یہ حالت نہیں بلکہ اس کے لئے یہی دنیا دارالعمل ہے اور یہی دار الجزاء ہے۔اور یہ دونوں قانون سوائے استثنائی حالات کے جن کے بیان کی اس جگہ ضرورت نہیں ہے بھی ایک دوسرے کے دائرہ عمل میں دخل انداز نہیں ہوتے۔یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ اگر کوئی شخص نیچر کے کسی قانون کی زد میں آجائے تو پھر وہ اس کے اثر سے صرف اس وجہ سے محفوظ رہے کہ وہ قانون شریعت کے لحاظ سے مجرم نہیں ہے بلکہ عام حالات میں وہ یقیناً قانون نیچر کی زد میں آنے کا نتیجہ بھگتے گا۔اور قانون شریعت کی پابندی اُسے اس نقصان اور تکلیف سے نہیں بچا سکے گی۔مثلاً اگر ایک چھت بوجہ کمزوری کے گرنے والی ہو اور اس کے نیچے دو شخص بیٹھے ہوں جن میں سے ایک مذہب کے لحاظ سے بہت اچھا آدمی ہو اور دوسرا بد کردار اور عاصی ہو تو عام حالات میں ایسا 213