ہمارا خدا — Page 20
لئے ہم اسے نہیں مان سکتے۔اسی طرح بجلی کی طاقت ہے جو خود نظر نہیں آتی مگر اپنے اثرات وافعال سے تمہارے دلوں پر حکومت کر رہی ہے۔تم اپنے کمرے کا بٹن دباتے ہو اور تمہارا پنکھا فرفر چلنے لگ جاتا ہے اور تم محسوس کرتے ہو کہ اب اس سیکھے میں کوئی بیرونی طاقت کام کر رہی ہے جو ایک سیکنڈ قبل اس میں موجود نہ تھی حالانکہ تم نے نہ اس طاقت کو براہ راست دیکھا نہ سنا نہ سونگھا نہ چکھا اور نہ کسی اور ظاہری حسن سے براہ راست اسے معلوم کیا مگر تمہارا دل اس یقین سے پر ہے کہ بجلی ایک زبردست طاقت ہے کیونکہ گو تمہارے حواس نے براہ راست بجلی کو محسوس نہیں کیا مگر اس کے افعال و اثرات و نتائج کو یقینی طور پر محسوس کیا ہے اس لئے تم اس کے انکار کی جرات نہیں کر سکتے اور اس پر اسی طرح یقین لاتے ہو جیسے مثلا سورج۔چاند۔پہاڑ دریا وغیرہ کے متعلق تمہیں یقین ہے۔پھر مثلاً محبت کے جذبہ کولو۔کوئی ہے جس نے محبت کو دیکھا ہو یا سنا ہو یا چکھا ہویا سونگھا ہو یا ٹولا ہو یا چھوا ہو؟ اگر نہیں اور ہرگز نہیں تو میں کہتا ہوں کہ پھر تم میں سے کوئی ہے جو محبت کے جذبہ کا انکار کر سکے؟ میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے اس مضمون کے پڑھنے والوں میں سے کوئی شخص خاص طور پر عشق کا دلدادہ اور محبت کا درد آشنا بھی ہے یا نہیں لیکن اگر کوئی ہے تو میں اس سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس نے یہ نظارہ نہیں دیکھا کہ اس کے چھوٹے سے دل میں جو وزن میں شاید آدھ پاؤ سے بھی زیادہ نہیں ہوگا محبت کا ایک نا پیدا کنار اور اتھاہ سمندر موجزن ہے جو جب تلاطم پر آتا ہے تو خدا کی مخلوقات میں غالباً سب سے زیادہ مہیب اور سب سے طاقتور ہستی کہلانے کا حقدار ہو جاتا ہے اور جو ایک کمزور اور نحیف انسان کے اندر وہ قوت و طاقت بھر دیتا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی خاطر پہاڑ سے ٹکراتا ہے اور صحراؤں کی خاک چھانتا ہے اور جنگل کے درندوں کے منہ میں حس جاتا ہے اور آگ میں زندہ کو د جاتا ہے اور سمندر کی مہیب موجوں کے سامنے۔20