ہمارا خدا — Page 194
کی کمی کے لوگوں کے انفرادی خیالات دنیا کے سامنے بہت کم آتے ہیں۔اور علم النفس کے مسئلہ کے ماتحت یہ بھی ممکن ہے کہ بعض صورتوں میں مشرقی لوگ خود بھی اپنے خیالات کو اچھی طرح نہ سمجھتے ہوں کیونکہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ان لوگوں میں ذہنی محاسبہ کی عادت بہت کم ہے۔پس بالکل ممکن ہے کہ باوجود دہریت کے خیالات سے متاثر ہونے کے وہ اپنی اس حالت کو عملاً محسوس نہ کرتے ہوں۔مگر یورپ وامریکہ میں یہ بات نہیں کیونکہ وہاں تعلیم کی زیادتی کی وجہ سے ہر شخص ذہنی محاسبہ کی عادت رکھتا ہے اور اس لئے اس کا ہر ذہنی تغیر اس کے سامنے آتا رہتا ہے۔اندریں حالات یہ بات ہرگز غیر ممکن نہیں کہ مغرب میں باوجود دہریوں کی تعداد تھوڑی ہونے کے وہ زیادہ نظر آتے ہیں اور مشرق میں باوجود ان کی تعداد زیادہ ہونے کے وہ تھوڑے نظر آتے ہوں۔پس جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ یورپ و امریکہ میں دہریوں کی تعداد مشرقی ممالک کی نسبت سے واقعی زیادہ ہے اس وقت تک صرف ایک عامیانہ اعتراض کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ مغرب میں دہریوں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے تو پھر بھی کوئی جائے اعتراض نہیں کیونکہ ہر شخص جو یورپ و امریکہ کی تاریخ کا ذرا بھی مطالعہ رکھتا ہے جانتا ہے کہ ان ممالک میں دہریت کے خیالات ان کی علمی ترقی کے آغاز کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔پس اگر بلاد غربی میں دہریت کا اثر مشرق کی نسبت واقعی زیادہ ہے تو زیادہ سے زیادہ یہ نتیجہ نکالا جاسکتاہے کہ علی ترقی دہریت کا باعث ہوئی ہے نہ یہ کہ دہریت کے اثر نے علمی ترقی کی طرف میلان پیدا کیا ہے۔یا یہ کہ خدا کا انکار خدا پر ایمان لانے کی نسبت علمی ترقی کا زیادہ شوق پیدا کرتا ہے۔پس اعتراض بہر حال باطل ہوا۔اور اگر اس جگہ کسی کو یہ خیال پیدا ہو کہ پھر علمی ترقی دہریت کا کیوں باعث ہوئی ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ علمی ترقی حقیقتادہریت کا 194