ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 192 of 255

ہمارا خدا — Page 192

کہا جاسکتا یہ سارا کارخانہ عالم آہستہ آہستہ ارتقاء کے اندھے قانون کے ماتحت اپنی موجودہ شکل وصورت کو پہنچا ہے وہ کبھی بھی حقائق الاشیاء اور قانون نیچر کی دریافت میں اس شوق و ذوق اور امید کے ساتھ منہمک نہیں ہوسکتا جو اس معاملہ میں ایک مومن باللہ کو حاصل ہو سکتے ہیں۔خدا پر ایمان لانے والے شخص کا دل اس یقین و ایمان سے پُر ہوتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز میرے خدا کی پیدا کردہ ہے اور یہ کہ خدا نے ہر چیز کو ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت پیدا کیا ہے۔اور اس لئے دنیا کی کوئی چیز بھی عبث اور باطل نہیں بلکہ اپنی اپنی خلقت کی غرض وغایت کے ماتحت اپنے اپنے مفوضہ کام کو سرانجام دے رہی ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ یقین حقائق الاشیاء کی تحقیق کے معاملہ میں انسان کے اندر ایک خاص ذوق و شوق اور اُمید در جا کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے جو بغیر اس کے کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔اور یہ کیفیت دُنیا کی علمی ترقی کے لئے ایک عظیم الشان سہارے کا کام دیتی ہے۔اس کے مقابل پر اگر ایک شخص خدا کا منکر ہے اور اس دنیا کو محض اتفاق کا نتیجہ قرار دیتا ہے تو وہ کبھی بھی حقائق الاشیاء کی دریافت میں اس شوق اور اُمید کے ساتھ منہمک نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ اپنے عقیدہ کے ماتحت اس بات کا امکان تسلیم کرتا ہے کہ ایک چیز صرف کسی اتفاقی تغیر کانتیجہ ہو ا یونہی کی اندھے قانون کے چکر میں آکر رونما ہو گئی ہو۔اور اگر کبھی ایسا شخص علمی ترقی کے خیال سے کسی چیز کے حقائق کی دریافت شروع بھی کرتا ہے تو پھر بھی وہ ہر گز اس استقلال و ہمت کے ساتھ اس کام کو سرانجام نہیں دے سکتا جو ایک مومن باللہ کو میسر ہو سکتے ہیں۔بلکہ اس کا دل ہر نا کامی پر اس طرف مائل ہونے لگے گا کہ اب کسی مزید کوشش اور توجہ کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ یہ خیال کرے گا کہ ممکن ہے کہ اس چیز میں کوئی خاص بات قابلِ دریافت ہو ہی نہیں۔لیکن خدا پر ایمان لانے والا شخص خواہ کتنی بھی ناکامیاں دیکھے وہ اس یقین سے کبھی بھی متزلزل نہیں ہوگا کہ اس چیز میں ضرور کوئی خاص حکمت اور غرض وغایت ہے کیونکہ 192