ہمارا خدا — Page 19
ایسے اعتراضات اٹھاتے رہتے ہیں اور پھر بھی وہ عقلمند سمجھے جاتے ہیں اور کوئی خدا کا بندہ ان عقل کے اندھوں سے نہیں پوچھتا کہ آخر اس جنون کی وجہ کیا ہے؟ کیا خدا کی ذات ہی ایسی رہ گئی ہے کہ تم اسے ایسی تمسخر آمیز دیوانگی کا نشانہ بناؤ؟ افسوس !صد افسوس !! یہاں تک میں نے صرف حواس ظاہری کا ذکر کیا ہے جن سے دُنیا کی بہت سی چیزوں کے متعلق علم حاصل ہوتا ہے، لیکن اس دُنیا میں بیشمار چیزیں ایسی بھی ہیں جن کا علم حواس ظاہری میں سے کسی جس کے ذریعہ بھی براہ راست حاصل نہیں ہوسکتا اور باوجود اس کے ہمیں ان کے متعلق ایسا ہی یقین حاصل ہے جیسا کہ ان چیزوں کے متعلق حاصل ہے جن کا علم حواس ظاہری کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔مثال کے طور پر قوت مقناطیسی کو لے لو۔کیا تم اُسے آنکھ سے دیکھ سکتے ہو یا کان سے سُن سکتے ہو یا ناک سے سونگھ سکتے ہو یا زبان سے چکھ سکتے ہو یا ہاتھ سے چھو سکتے ہو؟ ہر گز نہیں۔مگر کیا تم میں سے کسی کو جرات ہے کہ اس طاقت کا انکار کرے؟ میں پھر کہوں گا کہ ہرگز نہیں۔کیونکہ گو تم اس طاقت کو اپنی کسی ظاہری حسن سے براہِ راست محسوس نہیں کر سکتے لیکن اُس کے اثرات و افعال تم یقینی طور پر محسوس کرتے ہو اور اثرات کا علم تمہارے اندر ایسا ہی یقینی علم پیدا کر دیتا ہے جیسا کہ خود کسی چیز کا براہ راست محسوس کرنا کر سکتا ہے۔تم دیکھتے ہو کہ جب ایک مقناطیسی لوہے کے قریب تم ایک عام لوہے کا ٹکڑا لاتے ہو تو وہ مقنا طیس جھٹ اس لوہے کے ٹکڑے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جب بھی تم ایسا کرتے ہو یہی نتیجہ نکلتا ہے جس سے تمہیں یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ اس مقناطیسی لوہے کے اندر عام لوہے کے علاوہ کوئی اور طاقت موجود ہے جسے تم اپنے ظاہری حواس سے براہ راست محسوس نہیں کر سکتے مگر اس کے اثرات و افعال سے اس کا پتہ لگاتے ہو اور تمہیں کبھی یہ حبہ نہیں گذرتا کہ چونکہ ہم نے قوت مقناطیس کو دیکھا یا سنایا سونگھا یا چکھایا چھوا نہیں اس 19