ہمارا خدا — Page 189
کوئی انعام حاصل ہوگا۔دوسرے یہ کہ اگر میں گناہ کا مرتکب ہو اتو مجھے اس کے بدلے میں کوئی تکلیف پہنچے گی یا کوئی سزا بھگتنی پڑے گی۔اور تیسرے یہ کہ کسی شخص کا علم و عرفان ہی ایسا ترقی کر جائے کہ وہ بدی سے محض اس وجہ سے اجتناب کرے کہ وہ بدی ہے۔ان تینوں روکوں کے علاوہ کوئی اور روک انسان کے لئے گناہ اور مجرم سے باز رہنے کی نہیں ہے۔اور ان تینوں میں سے بھی تیسری روک ایسی ہے کہ وہ خاص خاص لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور عامتہ الناس اس قسم کے خیال سے متاثر نہیں ہوتے۔اور گواس تیسری روک سے فائدہ اُٹھانے میں بھی ایک مومن باللہ ایک غیر مومن پر یقیناً فوقیت رکھتا ہے مگر باقی دوروکیں تو بالبداہت ایسی ہیں کہ خدا کا عقیدہ اُن میں بہت بڑا دخل رکھتا ہے کیونکہ جو کوئی بھی خدا پر ایمان لاتا ہے وہ ساتھ ہی اس بات پر بھی یقین رکھتا ہے کہ اگر میں نے بدی کا ارتکاب کیا تو خدا تعالے مجھ پر ناراض ہوگا اور اس ناراضگی کے نتیجہ میں مجھے کوئی تکلیف پہنچے گی یا کوئی سزا بھگتنی پڑے گی اور اگر میں بدی سے کنارہ کش رہا تو خدا مجھ پر خوش ہوگا اور اس کی خوشنودی میرے فائدہ کا موجب ہوگی اور مجھے انعام و اکرام کا حقدار بنائے گی۔پس اس خیال کے ماتحت ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان لاتا ہے اور اس کا ایمان محض دکھاوے کا ایمان نہیں وہ یقیناً دوسروں کی نسبت گناہ سے زیادہ بچاہو اہوگا اور یہ ناممکن ہے کہ وہ خدا کا عقیدہ رکھتے ہوئے بدی کے ارتکاب کی طرف جرات کے ساتھ قدم بڑھائے بلکہ جتنا جتنا کوئی شخص اپنے ایمان میں زیادہ پختہ اور زیادہ کامل ہوگا اتنا ہی وہ گناہ اور جرائم سے زیادہ دُور اور زیادہ متنفر رہے گا۔علاوہ ازیں خدا کا عقیدہ اس لحاظ سے بھی انسان کو بدی کے ارتکاب سے روکتا ہے کہ ہر وہ شخص جو خدا پر ایمان لاتا ہے وہ ساتھ ہی خُدا کو حاضر وناظر اور عالم الغیب بھی یقین کرتا ہے اور اس لئے اگر اس کا ایمان ذرا بھی حقیقت پر مبنی ہے اور محض دکھاوے یا 189