ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 18 of 255

ہمارا خدا — Page 18

اگر یہ اعتراض ہوتا تھا تو گو بہر حال لغو اور بیہودہ ہی تھا مگر پھر بھی بعض نادانوں کو عارضی طور پر دھوکے میں ڈال سکتا تھا لیکن اس زمانہ میں اس اعتراض کا پیدا ہونا واقعی حیرت انگیز ہے اور مجھے اس شخص کی دماغی حالت پر سخت تعجب آیا کرتا ہے جو اس قسم کے شبہات سے اپنے انکار میں تسلی پانے کی کوشش کرتا ہے۔میرے نزدیک اس قسم کے اعتراضات کا اٹھا نا صرف چھوٹی عمر کے بچوں کے لئے جائز ہوسکتا ہے اور یا پھر یہ مجا نین کا کام ہے مگر بہر حال چونکہ یہ ایک عام شبہ ہے اس لئے اس کا ازالہ ضروری ہے۔چنانچہ میں مختصر طور پر اس شبہ کا جواب دیکر اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔جاننا چاہیے کہ دنیا میں مختلف چیزوں کے متعلق علم حاصل کرنے کے ذرائع مختلف ہیں مثلا کسی چیز کے متعلق ہمیں دیکھنے سے علم حاصل ہوتا ہے کسی کے متعلق سننے سے کسی کے متعلق چکھنے سے کسی کے متعلق سُونگھنے سے کسی کے متعلق ٹولنے سے اور کسی کے متعلق چھونے سے وغیرہ وغیرہ اور یہ سب علم ایک جیسے ہی یقینی اور قابلِ اعتماد ہوتے ہیں اور ہمیں ہر گز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ہم یہ مطالبہ کریں کہ جب تک ہمیں فلاں چیز کے متعلق فلاں ذریعہ سے علم حاصل نہیں ہوگا ہم اُسے نہیں مانیں گے مثلاً رنگوں کے متعلق علم حاصل کرنے کا ذریعہ آنکھ ہے یعنی آنکھ کے ذریعہ ہم یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ فلاں رنگ اس قسم کا ہے اور فلاں اس قسم کا۔اسی طرح بُو کے متعلق علم حاصل کرنے کا ذریعہ ناک ہے اور آواز کے لئے کان ہیں۔اب یہ سراسر دیوانگی ہوگی اگر ہم یہ کہیں کہ جب تک ہم آنکھ کے ذریعہ فلاں خوشبو کو نہیں دیکھ لیں گے ہم نہیں مانیں گے۔یا جب تک ہم ناک کے ذریعہ فلاں رنگ کو سونگھ نہ سکیں گے۔ہم تسلیم نہیں کرینگے۔یا جب تک ہم فلاں آواز کو ہاتھ سے ٹول نہ لیں گے ہماری تسلی نہ ہوگی۔جو شخص ایسے اعتراضات اُٹھائیگا وہ پاگل کہلائے گا اور اگر وہ پاگل خانہ میں نہیں بھیجا جائیگا تو کم از کم گلی کے شریر اور شوخ بچوں کا تماشہ ضرور بن جائیگا۔مگر تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق لوگ آئے دن 18