ہمارا خدا — Page 17
دنیا روحانیت اور کچے ایمان کے لحاظ سے ایک خطرناک تاریکی میں گھری ہوئی ہے اور کوئی کمزور مدھم اور ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی کسی کونے میں نظر نہیں آتا جس سے گرتے پڑتے اور ٹھوکریں کھاتے ہوئے مسافروں کا رستہ تھوڑا بہت روشن ہو سکے۔کیا ایسے تاریک و تار وقت میں ضرورت نہ تھی کہ قدیم سنت کے مطابق ہمارے مہربان خدا کی تجلیات کا سورج اس کے کسی پاک بندے کے افق قلب سے طلوع ہو کر دنیا میں اُجالا کرے؟ میرے عزیز واُٹھو اور اپنی جبینِ نیاز کو آستانہ الوہیت پر رکھ دو کیونکہ تمہارے خُدا نے تمہاری حالت کو دیکھا اور تمہارے لئے اپنے ایک رُوحانی سورج کو اُفق مشرق سے بلند کر دیا۔اب اپنے دل کی کھڑکیاں کھولو اور اس سورج کی نورانی کرنوں کو اُس کے اندر جانے دو تا شکوک و شبہات کی تاریکی دُور ہو اور رات کی ظلمت دن کی روشنی میں بدل جائے۔اگر خُدا ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آتا ؟ اس کے بعد قبل اس کے کہ میں اصل مضمون شروع کروں ایک شبہ کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں جو خدا تعالیٰ کے متعلق عموماً لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا کرتا ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ ہمیں نظر کیوں نہیں آتا؟ یہ شبہ آج کا نہیں بلکہ ہمیشہ سے چلا آیا ہے۔چنانچہ قرآن شریف سے پتہ چلتا ہے کہ عرب کے دہریوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی سوال کیا تھا کہ ہمیں خدا دکھا دو پھر ہم مان لیں گے مگر میں جب کبھی اس شبہ کا ذکر سنتا یا پڑھتا ہوں تو مجھے اس شبہ کے پیدا کرنے والوں کی حالت پر رحم آتا ہے۔افسوس ! جب انسان ٹھو کر کھانے لگتا ہے تو اس کی عقل پر ایسا غفلت کا پردہ آجاتا ہے کہ وہ کھلی کھلی بینات سے بھی انکار کرنے لگ جاتا ہے۔گذشتہ زمانوں میں سورة بنی اسرائیل - رکوع 10 آیت : 93 17