ہمارا خدا — Page 163
میں بالواسطہ پیش کئے جاسکتے ہیں۔گویا جس طرح میں نے عقلی دلائل کے شروع میں ایک احتیاطی دلیل بیان کی تھی جو اس اصل پر مبنی تھی کہ چونکہ خدا پر ایمان لانے میں کوئی نقصان نہیں اور انکار کرنا نقصان کے احتمالات رکھتا ہے اس لئے ایمان لانا اقرب بالامن ہے۔اسی طرح عقلی دلائل کی بحث کے اختتام پر میں یہ دوسری قسم کے احتیاطی دلائل بیان کرنا چاہتا ہوں جو اس اصول پر مبنی ہیں کہ چونکہ خدا کا عقیدہ نسل انسانی کے لئے مفید اور نفع بخش ہے اس لئے ایمان لانا بہر حال بہتر اور قابل ترجیح ہے لیکن اس جگہ یہ بات یادرکھنی چاہئے کہ یہاں ان عظیم الشان فوائد سے بحث نہیں جو مذہبی یا روحانی طور پر ایمان باللہ اور تعلق باللہ سے انسان کو حاصل ہوتے ہیں۔مثلاً خدا کے ساتھ ذاتی تعلق کا قیام۔اُس کی تائید و نصرت کا حصول۔علم و عرفان کی ترقی۔اُخروی نجات وغیرہ وغیرہ بلکہ یہاں صرف اُن اُصولی فوائد کا ذکر ہے جو خدا تعالیٰ پر معقولی طور پر ایمان لانے کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کو عام طور پر حاصل ہوتے ہیں یا ہو سکتے ہیں اور اس لئے اس جگہ صرف ان مؤخر الذکر فوائد کا ہی ذکر کیا جائے گا۔ایمان باللہ وحدت اور اخوت کا جذبہ پیدا کرتا ہے سب سے پہلے جو فائدہ ایمان باللہ کا میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ خدا کا خیال لوگوں کے دلوں میں وحدت و اخوت کے جذبات پیدا کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور یہ جذبات نسلِ انسانی کی ترقی اور بہبودی کے لئے نہایت درجہ ضروری اور مفید ہیں۔دنیا کے امن اور اقوام عالم کی خاطر خواہ ترقی و بہبودی کے لئے یہ بات از بس ضروری بلکہ لابدی ہے کہ مختلف اقوام باہم محبت اور اخوت اور تعاون کے ساتھ رہیں اور ایک دوسرے کے خلاف بے جا تعصب کو اپنے دل میں جگہ نہ پکڑنے دیں بلکہ حتی الوسع دوسروں کے متعلق ہمدردی اور قربانی اور ایثار کا طریق اختیار کریں اور اسی 163