ہمارا خدا — Page 160
ہوگا۔کیونکہ اگر ان حالات میں بھی دھو کے کا احتمال تسلیم کیا جائے تو پھر ہمارا کوئی مشاہدہ بھی اس احتمال سے باہر نہیں سمجھا جاسکتا۔اور دُنیا کے سارے علوم محض سفسطہ اور وہم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔بے شک ایسی صورت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہادت دینے والوں کے دماغ میں نقص ہے لیکن اُن کو صحیح الدماغ تسلیم کر کے دھوکا خوردہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔تیسرا جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ یہ شہادت کسی ایک فرد کی نہیں ہے، کسی ایک قوم کے لوگوں کی نہیں ہے، کسی ایک ملک کے باشندوں کی نہیں ہے، کسی ایک زمانہ کے لوگوں کی نہیں ہے۔بلکہ لاکھوں انسانی کی ہے جو دنیا کے ہر ملک ہر قوم ہر ملت ہر زمانہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔پس تم رکس کس کو دھوکا خوردہ قرار دو گے؟ ایک کو دھوکا لگ سکتا ہے، دوکو دھوکا لگ سکتا ہے، کسی ایک زمانہ میں دھوکا لگ سکتا ہے، کسی ایک قوم میں دھوکا لگ سکتا ہے لیکن یہ عجیب دھوکا ہے کہ لاکھوں صحیح الدماغ شخص جو مختلف قوموں اور مختلف زمانوں اور مختلف ملکوں میں عموماً ایک دوسرے سے بے خبری کی حالت میں گذرے ہیں سارے کے سارے اس دھو کے کا شکار ہو گئے۔پس اس شہادت میں اتنی بڑی جماعت کا پیش ہونا اور ہر قوم، ہر ملت ، ہر زمانہ اور ہر ملک کی طرف سے پیش ہونا اور سب کا ایک دوسرے سے آزاد ہو کر مستقل طور پر الگ الگ اس شہادت کا دینا ایک ایسی دلیل ہے جس میں کوئی عقلمند دھوکا لگنے کا احتمال تسلیم نہیں کر سکتا۔خلاصہ کلام یہ کہ انبیاء اور اولیاء اور صلحاء یہ کہتے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ کہتے ہیں کہ ہم نے خدا کو دیکھا اور پہچانا ہے اور دنیا تسلیم کرتی ہے کہ وہ دروغگو نہیں ، دوکاندار نہیں، مجنون نہیں، مخبوط الحواس نہیں۔اور یہ بھی مسلم ہے کہ وہ ایک دو نہیں، دس ہیں نہیں سینکڑوں نہیں ، ہزاروں نہیں، لاکھوں بلکہ شاید کروڑوں ہیں۔اور ہر ملک، ہر قوم ہر ملت ، ہر زمانہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہر شخص دوسرے سے آزاد ہو کر 160