ہمارا خدا — Page 16
یقین ایک مستقل جذ بہ کے طور پر علی وجہ البصیرت دل میں قائم ہو جو انسان کی زندگی کا ایک حصہ بن جائے اور اُس کی روح کی غذا ہو جائے اور اس کے لئے ہر وقت ایک ایسی شمع ہدایت کا کام دے جو اسے گناہ کے تاریک رستوں پر متنبہ کرتی رہے اور اُس کے ذریعہ سے نیکی کے راستے اُس کی آنکھوں کے سامنے روشن ہوتے رہیں اور تمام مادی اسباب اُس کی نظر میں بیچ ہو جائیں یعنی اُن اسباب پر اس کا بھروسہ نہ رہے بلکہ اس کا اصل بھر وسہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہو جو تمام اسباب کا پیدا کرنے والا ہے اور خدا کی محبت کی آگ اس کے دل میں سوزاں رہے اور اُس کی ناراضگی کا خوف اس کے دل پر غالب ہو۔اب دیانتداری کے ساتھ بتاؤ کہ کیا تم واقعی ایسا ایمان اپنے دلوں میں پاتے ہو؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو اپنے آپ کو مومن کہتے ہوئے شرماؤ اور اُس ایمان کی تلاش میں لگ جاؤ جو آسمان سے اترتا ہے اور بجلی کے ایک زبر دست لیمپ کی طرح دل کے دور دراز اور تاریک و تار کونوں کو منور کر دیتا ہے جس کے بعد خدا کا وجود ایک خیالی بُت نہیں رہتا جسے تمہارے دماغوں نے گھڑا ہو بلکہ وہ ایک زندہ تی و قیوم قدیر وعزیز نگر مشفق و مہربان بادشاہ نظر آتا ہے جس کی حکومت دیکھنے والوں کے لئے اُن حکومتوں سے بھی بہت بڑھ چڑھ کر محسوس و مشہور ہوتی ہے جو تم اس دنیا میں دنیاوی بادشاہوں کی دیکھتے ہو۔الغرض یہ ایک بین حقیقت ہے جس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ اس زمانہ میں حقیقی ایمان دنیا سے مفقود ہے اور نہ صرف یہ کہ عوام کے دلوں سے مفقود ہے بلکہ وہ لوگ جو مذہبی لیڈر کہلاتے ہیں اور لوگوں کو ایمان پر قائم کرنے کا دم بھرتے ہیں اُن کے دل بھی دراصل دہریت کا شکار ہو چکے ہیں۔وہ یا تو دنیا کو دھوکہ دیتے ہیں یا خود اپنے متعلق دھو کہ خوردہ ہیں کیونکہ زبان پر تو سب کچھ ہے مگر دل میں کچھ بھی نہیں۔یقینا اس وقت 16