ہمارا خدا — Page 154
صرف مفقود ہیں بلکہ یہ شاہد وہ ہیں جو اپنی صادق القولی اور اعلیٰ دماغی طاقتوں میں دُنیا کی صف اول میں شمار کئے گئے ہیں۔اور پھر وہ شہادت بھی کوئی سماعی شہادت پیش نہیں کرتے بلکہ اپنا ذاتی اور عینی مشاہدہ پیش کرتے ہیں اور یہ لوگ گزرے بھی مختلف زمانوں اور مختلف قوموں میں ہیں۔بلکہ اُن میں سے اکثر وہ ہیں جن کو اپنے زمانہ میں دوسروں کے وجود تک کی اطلاع نہ تھی اس لئے اُن کے متعلق سازش کا بھی شبہ نہیں ہوسکتا۔اندریں حالات اُن کی یہ شہادت ایسی وزن دار شہادت ہے کہ جو کسی صورت میں نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔یوں سمجھو کہ تمہارے پاس ایک مقدمہ آتا ہے اور تم نے اس کا فیصلہ کرنا ہے۔ایک طرف ہزاروں انسانوں کی جماعت ہے جن کے ایک ایک فرد کی راست گفتاری اور صحیح الدماغی دوست و دشمن میں مسلم ہے اور یہ لوگ الگ الگ اپنی عینی شہادت پیش کرتے ہیں کہ ہم نے فلاں شخص کو فلاں جگہ دیکھا ہے اور دوسری طرف ایک گروہ ہے جس میں ہر قسم کے بُرے بھلے لوگ شامل ہیں اور وہ یہ بیان دیتے ہیں کہ ہم نے اس شخص کو نہیں دیکھا۔بتاؤ تم کس فریق کے حق میں فیصلہ دو گے؟ اگر تم اپنے اندر فیصلہ کی طاقت نہیں پاتے تو کسی قانون دان سے جا کر پوچھو وہ تمہیں بتائے گا کہ اگر دیکھنے والوں کی شہادت شبہ سے بالا ہے تو اُسی کے مطابق فیصلہ ہوگا اور نہ دیکھنے والوں کا بیان خواہ وہ تعداد میں کتنے ہی زیادہ ہوں فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پیدا کر سکے گا کیونکہ یہ تو مکن ہے کہ ایک چیز موجود ہو اور کسی وجہ سے بعض لوگ اُسے نہ دیکھیں لیکن یہ بات ہرگز ممکن نہیں کہ ایک چیز موجود نہ ہو اور پھر بھی عاقل اور صحیح الدماغ لوگوں کی ایک جماعت اُسے دیکھ لے۔الغرض انبیاء اور رسل کی شہادت جو وہ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق پیش کرتے ہیں اس بات کا ایک نہایت زبردست ثبوت ہے کہ واقعی ہمارا ایک خدا موجود ہے۔اور 154