ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 150 of 255

ہمارا خدا — Page 150

قابل تسلیم نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارا اپنا مشاہدہ اور تجر بہ خود ہمارے واسطے قابل تسلیم ہو۔اگر وہ اپنے مشاہدہ میں غلطی کر سکتے ہیں تو ہم بھی غلطی کے ارتکاب سے بالا نہیں ہیں لہذا ثابت ہوا کہ شہادت کے اصل کا انکار کر کے سوائے اس کے کہ تو ہم پرستی کا دروازہ کھول دیا جائے اور کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔کوئی شخص کہ سکتا ہے کہ بعض اوقات شہادت غلط بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات گواہ دروغگو تو نہیں ہوتا لیکن بوجہ ناقص الفہم ہونے کے اُس کی شہادت قابلِ قبول نہیں رہتی۔یہ درست ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن اس احتمال کی وجہ سے شہادت کا دروازہ حصول علم کے واسطے ہرگز بند نہیں کیا جا سکتا۔اگر کسی خراب اور بوسیدہ دوائی کے استعمال سے کسی مریض کو نقصان پہنچ جائے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ وہ دوائی اپنی ذات میں غیر مفید اور ضرر رساں ہے؟ اسی طرح جھوٹے اور ناقص الفہم شاہد کی شہادت سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالا جاسکتا کہ شہادت کا اُصول ہی باطل ہے۔اس سے تو صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح ایک خراب شدہ دوائی کے استعمال سے پر ہیز لازم ہے اسی طرح ایک دروغگو یا نا قص الفہم شخص کی شہادت کے قبول کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔جیسا کہ قرآن شریف بھی فرماتا ہے:۔↓ ” إِنْ جَاءَ كُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا یعنی اگر تمہارے پاس کوئی جھوٹا شخص ایک خبر لاتا ہے تو اُسے یونہی بلاتحقیق نہ مان لیا کرو بلکہ تحقیق کے بعد اگر درست ثابت ہو تو تب مانا کرو“ الغرض شہادت حصول علم کے ذرائع میں سے ایک بہت بڑا ذریعہ ہے اور صرف اس احتمال سے کہ بعض شہادتیں غلط بھی ہو سکتی ہیں اس ذریعہ کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر اس قسم کے احتمالات سے کسی چیز کو باطل قراردیا جا سکتا ہے تو پھر دُنیا کی سورة الحجرات - آیت 7 150