ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 132 of 255

ہمارا خدا — Page 132

جسے اس کے گھر والے فرعون کے ڈر سے صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دیتے ہیں۔فرعون کے لوگ اُسے دریا سے اُٹھا لیتے ہیں اور رحم کے طور پر یا کسی اور خیال سے فرعون اسے اپنے گھر میں پالے جانے کا حکم دیتا ہے۔یہ لڑکا جب بڑا ہوتا ہے تو سلطنت کے ایک جرم کی سزا سے خائف ہو کر وطن سے بھاگ نکلتا ہے اور جنگلوں کی خاک جھانتے ہوئے آخر ایک نیک انسان کی خدمت اختیار کرتا ہے۔جہاں دس سالہ خدمت کے بعد اس کی شادی ہوتی ہے اور پھر وہ خدائی نُور سے منور ہو کر فرعون کے دربار کی طرف واپس آتا ہے اور سر دربار کھڑے ہو کر فرعون کے منہ پر کہتا ہے کہ ” میں اُس خدا کا اینچی ہوں جو تیرا اور میر اسب کا خالق و مالک ہے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کر دو ورنہ انجام ٹھیک نہیں ہوگا۔فرعون حکومت کے نشے میں مخمور ہے تیوری چڑھا کر جواب دیتا ہے کہ ” اے موسیٰ! کیا تو میرے سامنے اس طرح بولتا ہے۔ہاں تو جو میرے گھر کے ٹکڑوں پر پلا ہے ذرا ہوش میں آ کر بات کر۔“ حضرت موسی سمجھ جاتے ہیں کہ اس بدمست دیو کا خمار یوں اُتر تا نظر نہیں آتا۔تجویز ہوتی ہے کہ کسی حکمت عملی سے خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکل چلیں پھر جو ہوگا دیکھا جائے گا۔فرعون کو علم ہوتا ہے تو غیظ و غضب میں آپے سے باہر ہو ا جاتا ہے اور حکومت کے جرارلشکر کو ساتھ لے کر اُن جنگل میں بھاگ نکلنے والوں کا تعاقب کرتا ہے اور بس دیکھتے ہی دیکھتے اُن کو جالیتا ہے۔بنو اسرائیل جن کو برسوں کی غلامی نے نامردوں سے بدتر بنارکھا تھا یہ نظارہ دیکھ کر سہمے جاتے ہیں۔اُن کے عقب میں فرعون کا جرار شکر ہے اور سامنے مہیب سمندر ہے۔گھبرا کر حضرت موسیٰ سے کہتے ہیں کہ موسیٰ ! اب کیا ہوگا ؟ مگر حضرت موسیٰ ہیں کہ چٹان کی طرح قائم ہیں۔ان سہمے ہوئے چہروں پر نظر ڈال کر فرماتے ہیں: گلا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِيْنِ یعنی ” خبردارگھبرانے کی کوئی بات نہیں میرے ساتھ میرا ے " سورة الشعراء - آیت 63 132