ہمارا خدا — Page 131
اتفاق کا نتیجہ ہے؟ بھلا کوئی ایک مثال تو دو کہ اس قسم کی جنگ میں منکرین کی فوج نے فتح پائی ہو اور خدا کے بندے کو ذلت کا منہ دیکھنا پڑا ہو۔کیا یہ نظارہ اس بات کا یقینی ثبوت نہیں کہ خدا کا نام لے کر کھڑے ہونے والوں کی مدد میں ایک قادر المطلق ہستی کا ہاتھ کام کرتا ہے جس کے مقابل میں دُنیا کے ساز و سامان ایک مُردہ کیڑے کی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔آریہ ورت کے میدانوں میں حضرت کرشن اور رام چندر جی کے کارناموں کو دیکھو۔یہ بزرگ لوگ کس آواز کے ساتھ دُنیا میں اُٹھے اور ہندوستان کے نمک حرام فرزندوں نے اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ مگر آخر نتیجہ کیا نکلا؟ کیا آج آریہ ورت کی گردنیں ان مقدس ہستیوں کے سامنے جھک جھک کر اپنی غلامی کا اقرار نہیں کر رہیں؟ ابوالانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے حالات زندگی پر نظر ڈالو۔یہ خدا کا بندہ اکیلا تن تنہا شام کی تاریک وادیوں میں خدا کا نام لے کر کھڑا ہوتا ہے اور دہریت کے بہادر سپوت اس آواز پر اس کو جلتی ہوئی آگ کے منہ میں جھونک دیتے ہیں۔مگر وہ بظاہر بے یار و مددگار انسان ڈرتا نہیں خوف نہیں کھاتا بلکہ اس طرح تکبیر کے راگ گاتا چلا جاتا ہے جیسے کوئی پھولوں کی سیج پر آرام سے لیٹا ہوا ہو۔ایسا کیوں ہوا؟ اس لئے کہ حضرت ابراہیم کے کانوں میں کسی بالا ہستی کی یہ آواز گونج رہی تھی کہ اے ابراہیم آسمان کی طرف دیکھ۔کیا تو ان ستاروں کو گن سکتا ہے؟ حضرت ابراہیم عرض کرتے ہیں۔اے میرے آقا! تیرے لشکر کو کون شمار کر سکتا ہے؟ ارشاد ہوتا ہے ابراہیم ! تو نے ہم سے محبت و وفا کا عہد باندھا ہے اب ہمیں بھی اپنی ذات کی قسم ہے کہ تیری آل و اولا د بھی اسی طرح آسمان ہدایت کے ستارے بنکر چمکے گی اور گنی نہیں جائے گی۔دیکھ لو۔آج دنیا میں جتنے حضرت ابراہیم کے نام لیوا موجود ہیں وہ کسی اور نبی کو میسر نہیں مگر حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے والے کہاں ہیں؟ پھر حضرت موسیٰ کو لے لو۔ایک غریب خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے 131