ہمارا خدا — Page 107
پانچویں دُنیا کی کوئی چیز قائم بالذات نہیں بلکہ اپنے قیام کے واسطے دوسروں کے سہارے کی محتاج ہے۔اور سائنس کی جدید تحقیقاتوں نے تو اس بات کو یہاں تک ثابت کر دیا ہے کہ دُنیا کی ہر اک چیز اپنی زندگی کے قیام کے واسطے باقی تمام دوسری چیزوں پر اثر ڈال رہی اور اُن سے اثر لے رہی ہے۔گویا کوئی چیز بھی اپنی ذات میں قائم نہیں۔پس دُنیا کی ہر ایک چیز کا غیر قائم بالذات ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ دنیا خود بخود اپنے آپ سے نہیں بلکہ کسی بالا ہستی کے سہارے پر قائم ہے جس نے ایک حکیمانہ نظام میں ہر اک چیز کو اپنی اپنی جگہ میں قائم کر رکھا ہے۔چھٹے دُنیا میں ایک خاص ڈیزائن (Design) یعنی ترتیب پائی جاتی ہے جو ایک مدرک بالا رادہ مرتب ہستی کو چاہتی ہے لیکن خُدا کے متعلق یہ سوال پیدا نہیں ہوتا۔ساتو میں دنیا کی ہر چیز اپنے حالات سے ایک خاص غرض و مقصد کے ماتحت چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔اور یہ علت غائی جو نیچر کے مطالعہ سے ہر چیز کے دور زندگی میں ظاہر ہو رہی ہے اس بات کو چاہتی ہے کہ اس عالم کے پیچھے ایک اور ہستی ہو جو خود پس پردہ رہ کر نظام عالم کی غیر مرئی تاروں کو ہر وقت اپنے ہاتھ میں رکھتی ہے اور ایک معین پروگرام کے ماتحت اس دُنیا کو ایک خاص مقصد و منتہجی کی طرف لے جارہی ہے۔لیکن اس کے مقابلہ میں خُدا کے وجود کے متعلق قطعاً کوئی علت غائی کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کیونکہ وہ اپنی ذات میں واحد و احد۔اول و آخر قائم وصمد اور جامع و جمیع کمالات مانا جاتا ہے۔اسی طرح دُنیا کے باقی تمام حالات وکوائف بھی اس کے مخلوق ہونے پر دلالت کر رہے ہیں۔الغرض دُنیا کے حالات ہمیں اس بات پر مجبور کر رہے ہیں کہ ہم اسے مخلوق و مملوک قرار دیں مگر اس کے مقابل میں خدا کی صفات نہ صرف یہ کہ اس کے مخلوق ہونے کے متقاضی نہیں بلکہ خدائیت اور مخلوقیت کا مفہوم اس طرح ایک دوسرے کی ضد میں واقع ہوا ہے کہ کبھی بھی ایک وجود میں جمع نہیں ہوسکتا۔پس یہ نادانی اور لاعلمی کا سوال 107