ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 87 of 255

ہمارا خدا — Page 87

اس نہایت درجہ حکیمانہ قانون کے جو اس کی ہر چیز میں کام کرتا ہوا نظر آتا ہے اور مع اپنے اس حیرت انگیز نظام کے جس نے اس کی بے شمار مختلف الخواص چیزوں کو ایک واحد لڑی میں پرو رکھا ہے اور جس کی وجہ سے دُنیا کی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کی ضروریات کے مہیا کرنے کے لئے ہزاروں یا لاکھوں یا کروڑوں میل کے فاصلہ پر بے شمار قدرتی کارخانے دن رات کام میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں اس بات کا ایک زبر دست ثبوت ہے کہ اس دنیا کے اوپر ایک حکیم ولیم و قدیر و متصرف ہستی کام کر رہی ہے جس کے قبضہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔فلسفہ جدید کیوں ٹھوکر کا موجب بن رہا ہے؟ اس بحث کو ختم کرنے سے قبل میں یہ بات بھی مختصر طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ وجہ کیا ہے کہ جبکہ یورپ کا جدید فلسفہ یا بعض سائنسدانوں کے قیاسات قطع نظر اس کے کہ وہ صحیح ہیں یا غلط یا کس حد تک صحیح ہیں اور کس حد تک غلط خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق حقیقتاً اعتراض کا موجب نہیں ہو سکتے ، وہ اس زمانہ میں بہت سے لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔سو جاننا چاہئے کہ یورپ کے جدید نظریات نے دو وجہ سے لوگوں کو غلطی میں ڈالا ہے۔پہلی وجہ تو یہ ہے کہ جب مغربی محققین نے یہ خیال پیدا کیا که ماده خود اپنی ذات کے اندر یہ خاصیت رکھتا ہے کہ وہ مختلف صورتیں اختیار کر لے اور ادفی حالت سے اعلیٰ کی طرف ترقی کرتا چلا جائے اور یہ کہ موجودہ دنیا کی سب چیزیں اور خصوصاً انسان اسی قانون ارتقاء کی صنعت کا کرشمہ ہیں تو بوجہ اس کے کہ ان کو روحانی طور پر ذات باری تعالیٰ کے متعلق کوئی بصیرت حاصل نہیں تھی اُن کے دل میں یہ مجبہ پیدا ہونے لگا کہ شاید دنیا کے اوپر کوئی الگ خدا نہ ہو بلکہ یہ دنیا اپنے آپ سے ہی ہو اور مادہ کے اندرونی خواص کے نتیجے میں ہی یہ سارا کارخانہ چلتا چلا جارہا ہو۔چنانچہ بالآخر وہ 87