ہمارا خدا — Page 78
یعنی ” کیا لوگ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح دُنیا کی ہر چیز خدا کے حکم کے ماتحت مطیع و فرمانبردار ہو کر اپنے دائیں اور بائیں اثر ڈال رہی ہے اور جو کچھ کہ زمین و آسمان میں ہے وہ سب خدا کے مقرر کردہ قانون کے ماتحت چل رہا ہے۔اور ہم نے زمین و آسمان کو اور جو کچھ کہ اُن میں ہے محض تفریح کے طور پر بلا مقصد نہیں پیدا کیا بلکہ ایک خاص مقصد کے ماتحت پیدا کیا ہے۔“ یہ وہ حقیقت ہے جس کی تفصیلات کی دریافت کے واسطے یورپ و امریکہ کے محققین آج اپنی عمر میں صرف کر رہے ہیں لیکن بوجہ اس کے کہ اُن کی دین کی آنکھ بند ہے اُن میں سے بعض اپنی بدقسمتی سے یہ سمجھ رہے ہیں کہ اُن کی یہ تحقیقا تیں مذہب اور خدا کے وجود پر ایک حملہ ہیں حالانکہ حق یہ ہے کہ نظام عالم اور قانون نیچر کا جتنا بھی کمال ظاہر ہوتا جاتا ہے اتنا ہی یہ عالم سفلی اہل بصیرت کے نزدیک ایک حکیم و علیم ، قدیر و متصرف خالق کی طرف اشارہ کرنے میں زیادہ وضاحت اختیار کرتا جاتا ہے۔چنانچہ خود مغربی محققین میں بھی ایک کافی طبقہ ان لوگوں کا ہے جو خدا پر ایمان لاتے ہیں اور یہ جدید تحقیقا تیں اُن کے اس ایمان کے رستہ میں قطعاً کوئی روک نہیں ہوتیں بلکہ انہیں وہ دہریت کے خلاف بطور ایک حربہ کے استعمال کرتے ہیں۔پس اے میرے عزیز و ا تم ان علوم جدیدہ سے مت گھبراؤ کیونکہ یہ سب تمہارے خادم ہیں اور ان کا سوائے اس کے اور کوئی اثر نہیں کہ تمہارے خدا کی حکیمانہ قدرت نمایوں کے کرشمے زیادہ سے زیادہ وضاحت اور تعیین کے ساتھ لوگوں کی نظروں کے سامنے آتے جاتے ہیں اور دنیا پر یہ بات علم الیقین کے طور پر ثابت ہوتی چلی جارہی ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے بالواسطہ یا بلا واسطہ انسان کے فائدہ کے لئے ہے جیسا کہ آج سے تیرہ سو سال قبل قرآن شریف فرما چکا ہے:۔78